پنجاب میں بجلی چوری کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران لاکھوں کی بجلی چوری کرنے پر ملتان میں سابق وفاقی وزیر اور سینئر سیاست دان مخدوم جاوید ہاشمی کے رشتہ داروں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کی بیٹی، داماد اور نواسے کو گرفتار کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کارروائی 295,000 روپے کی مبینہ بجلی چوری کے معاملے پر عمل میں لائی گئی۔
پنجاب حکومت اور متعلقہ محکموں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی کے قریبی رشتہ داروں کے خلاف یہ کارروائی بجلی چوری کے شواہد سامنے آنے پر کی گئی۔ ذرائع کے مطابق بجلی کے غیر قانونی استعمال اور واجبات کی عدم ادائیگی کا انکشاف ہوا، جس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی گئی۔
پنجاب حکومت نے واضح کیا ہے کہ پنجاب بھر میں بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن بلا تفریق جاری ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کا امتیاز نہیں برتا جا رہا۔ حکومت کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ جو بھی شخص بجلی چوری میں ملوث پایا جائے گا، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی یا سماجی پس منظر سے ہو۔
پنجاب حکومت کے مطابق بجلی چوری کے باعث قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچتا ہے، جس کے پیش نظر صوبے بھر میں سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں مختلف اضلاع میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور درجنوں افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی کے اہلِ خانہ کی گرفتاری بھی اسی مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد بجلی چوری کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔