صوبائی حکومت نے آٹے کی نئی سرکاری قیمتیں مقرر کردیں،نوٹیفکیشن جاری

صوبائی حکومت نے آٹے کی نئی سرکاری قیمتیں مقرر کردیں،نوٹیفکیشن جاری

کمشنر کراچی کی جانب سے آٹے کی نئی سرکاری قیمتیں مقرر کر دی گئی ہیں جن کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، نئے نرخنامے کے مطابق شہریوں کو مختلف اقسام کے آٹے کی خریداری اب مقررہ قیمتوں پر کرنا ہوگی، جبکہ دکانداروں کو ان نرخوں پر سختی سے عمل درآمد کا پابند بنایا گیا ہے۔

نئے فیصلے کے تحت ڈھائی نمبر آٹے کی ریٹیل قیمت 113 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے،اسی طرح فائن آٹے کی ریٹیل قیمت 121 روپے جبکہ ہول سیل قیمت 118 روپے فی کلو مقرر کر دی گئی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق ان قیمتوں کا مقصد مارکیٹ میں استحکام لانا اور شہریوں کو منصفانہ نرخوں پر اشیائے خور و نوش کی فراہمی یقینی بنانا ہے،نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ چکی کے آٹے کی ریٹیل قیمت 145 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے اور تمام دکاندار اس نرخ کی پابندی کے پابند ہوں گے۔

دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ گندم کی فی من قیمت چار ہزار روپے تک پہنچنے کے بعد آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات عام مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس سے قبل چار فروری کو ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت 107 روپے فی کلو جبکہ چکی آٹے کی قیمت 130 روپے فی کلو مقرر تھی۔ اسی طرح فائن آٹے کی ریٹیل قیمت 115 روپے اور ہول سیل قیمت 112 روپے فی کلو تھی۔

یہ بھی پڑھیں :دالیں، چاول اور مصالحہ جات کی نئی قیمتیں جاری

حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا تعلق گندم کی دستیابی اور پیداواری لاگت سے ہے تاہم حکومت کوشش کر رہی ہے کہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے،دوسری جانب صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں گندم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافے کے بعد بحران نے جنم لے لیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق لاہور میں فی من گندم کی قیمت بڑھ کر 4000 روپے تک پہنچ گئی ہے، جس کے براہِ راست اثرات آٹے کے نرخوں پر پڑے ہیں۔

کرپانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ملز کی جانب سے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی سپلائی قیمت 2100 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ عام شہریوں کو یہی تھیلا 2150 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے، یعنی محض ایک دن میں 20 کلو کے تھیلے پر 50 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ادھر مارکیٹ میں 10 کلو آٹے کے تھیلے کی قلت پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ ملز کی جانب سے اس کی فراہمی معطل ہے صارفین 15 کلو کا تھیلا 1600 سے 1700 روپے کی بھاری قیمت پر خریدنے پر مجبور ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے تاکہ عام آدمی دو وقت کی روٹی سکون سے کھا سکے۔

editor

Related Articles