نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک میں بجلی کے متبادل ذرائع سے پیدا ہونے والی توانائی کے نظام میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق نئی ریگولیشنز کے نفاذ کے بعد ملک میں اب نیٹ بلنگ کا نظام رائج ہو جائے گا، جس سے سولر اور دیگر متبادل توانائی استعمال کرنے والے صارفین براہِ راست متاثر ہوں گے،نیپرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کا اطلاق صرف سولر صارفین تک محدود نہیں ہوگا بلکہ بائیوگیس کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے صارفین بھی اس دائرہ کار میں شامل ہوں گے۔
اس اقدام کا مقصد متبادل توانائی کے تمام ذرائع کو ایک یکساں ریگولیٹری فریم ورک کے تحت لانا بتایا جا رہا ہے نئی ریگولیشنز کے تحت بجلی کے بلنگ نظام میں بھی نمایاں تبدیلی کی گئی ہے،اب بلنگ سائیکل کے اختتام پر نیٹ بلنگ کے تحت بل جاری کیا جائے گا، جس میں صارف کی جانب سے استعمال اور قومی گرڈ کو فراہم کی گئی بجلی کا الگ الگ حساب رکھا جائے گا۔
اس نظام کے ذریعے بجلی کی خرید و فروخت کو مزید شفاف بنانے کی کوشش کی گئی ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق نیٹ میٹرنگ صارفین سے بجلی نیشنل ایوریج انرجی پرائس کے مطابق خریدی جائے گی، جبکہ انہیں بجلی کی فراہمی موجودہ رائج ٹیرف کے مطابق کی جائے گی۔
اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ اب صارفین کو اضافی بجلی فراہم کرنے پر وہ مالی فائدہ حاصل نہیں ہوگا جو پہلے نیٹ میٹرنگ کے تحت ملتا تھامزید یہ کہ قومی گرڈ کو فراہم کی جانے والی اضافی بجلی کی ادائیگی ماہانہ کے بجائے سہ ماہی بنیادوں پر کی جائے گی۔
اس تبدیلی سے صارفین کے کیش فلو پر اثر پڑ سکتا ہے، خصوصاً وہ صارفین جو نیٹ میٹرنگ کو آمدن کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتے تھے،نیپرا نے نیٹ میٹرنگ کے معاہدوں کی مدت میں بھی تبدیلی کر دی ہے۔
نئی ریگولیشنز کے تحت نیٹ میٹرنگ کا معاہدہ صرف 5 سال کے لیے ہوگا، جس کی مدت مکمل ہونے پر مزید 5 سال کے لیے تجدید کی جائے گی، اس سے قبل یہ معاہدے نسبتاً طویل مدت کے لیے تصور کیے جاتے تھے۔