دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے پانی کے بحران کے درمیان ایک نئی سائنسی پیش رفت نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے، جس کے تحت ہوا سے براہِ راست پینے کا صاف پانی حاصل کرنے والی جدید مشین تیار کر لی گئی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو سولر پینلز کی طرز پر ایک انقلابی حل قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا یونیورسٹی کے کیمیا دان اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان پروفیسر عمر یاغی کی سربراہی میں تیار کی جانے والی اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہوا میں موجود نمی کو جذب کر کے اسے صاف اور قابلِ استعمال پانی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے مطابق یہ نظام روزانہ تقریباً ایک ہزار لیٹر تک پینے کا صاف پانی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حتیٰ کہ ان علاقوں میں بھی جہاں نمی کی سطح انتہائی کم ہو۔
ماہرین کے مطابق اس مشین میں “میٹل آرگینک فریم ورکس” نامی جدید مادہ استعمال کیا گیا ہے جو اپنی ساخت کی وجہ سے ہوا میں موجود نمی کو اس طرح جذب کرتا ہے جیسے اسپنج پانی کو جذب کرتا ہے۔ بعد ازاں سورج کی حرارت یا کم توانائی والے حرارتی نظام کے ذریعے اس نمی کو خارج کیا جاتا ہے اور اسے کنڈینس کر کے صاف پانی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اس عمل میں روایتی پانی بنانے والے نظاموں کے مقابلے میں کم توانائی درکار ہوتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ جدید یونٹس شپنگ کنٹینر کے سائز کے ہیں اور آف گرڈ علاقوں میں بھی باآسانی کام کر سکتے ہیں۔ انہیں خاص طور پر خشک سالی کے شکار علاقوں، دور دراز دیہات، جزیروں اور قدرتی آفات سے متاثرہ خطوں کے لیے موزوں قرار دیا جا رہا ہے۔
پروفیسر عمر یاغی کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا خیال ان کے بچپن کے تجربات اور پانی کی شدید قلت سے متاثر ہو کر آیا، جب وہ ایک پناہ گزین کمیونٹی میں رہائش پذیر تھے اور لوگوں کو پانی کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کرتے دیکھا۔
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں دو ارب سے زائد افراد کو محفوظ پینے کا پانی میسر نہیں جبکہ اربوں لوگ موسمی پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں پانی کے بحران کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور اسے ایک پائیدار اور ماحول دوست حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔