ایک نابینا موجد کی حیرت انگیز ایجاد، جس نے گاڑی چلانے کا طریقہ بدل دیا

ایک نابینا موجد کی حیرت انگیز ایجاد، جس نے گاڑی چلانے کا طریقہ بدل دیا

آج گاڑیوں میں موجود کروز کنٹرول سسٹم ایک ایسی ایجاد ہے جس کے پیچھے رالف ٹیٹر نامی ایک غیر معمولی ذہن رکھنے والے شخص کی دلچسپ کہانی چھپی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ رالف ٹیٹر 5سال کی عمر میں مکمل طور پر بینائی سے محروم ہو گئے تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے انجینئرنگ کی دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا جو آج بھی استعمال ہو رہا ہے۔

رالف ٹیٹر 1890 میں امریکہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ایک حادثے کے دوران چاقو لگنے سے ان کی دونوں آنکھیں ضائع ہو گئیں، مگر انہوں نے اپنی معذوری کو کبھی رکاوٹ نہیں بننے دیا اور تعلیم و ٹیکنالوجی کے شعبے میں مسلسل آگے بڑھتے رہے۔

 

یہ بھی پڑھیں :بھٹے سے ڈیجیٹل دنیا تک، 20 سالہ خانزالہ نے ایک لیپ ٹاپ سے اپنی زندگی بدل دی

کہانی کے مطابق، ایک بار وہ اپنے وکیل دوست کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ سفر کے دوران ان کے دوست کی رفتار بار بار بدلتی رہی، کبھی بات کرتے ہوئے گاڑی آہستہ ہو جاتی اور کبھی تیز۔ یہ غیر مستقل رفتار رالف کو بہت غیر آرام دہ محسوس ہوئی۔ اسی تجربے نے انہیں ایک ایسے نظام کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا جو گاڑی کی رفتار کو مستقل رکھ سکے۔

یہ بھی پڑھیں :59 ہزار سال پرانے دانت میں سرجری کے آثار

1945 میں انہوں نے اس تصور کا پہلا ڈیزائن تیار کیا، جبکہ 1950 میں انہیں اس کا پیٹنٹ ملا۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کو ’’اسپیڈوسٹیٹ‘‘ کا نام دیا۔1958 میں یہ نظام پہلی بار کرسلر کی گاڑیوں میں متعارف کرایا گیا، جہاں اسے ابتدائی طور پر ’’آٹو پائلٹ‘‘ کے نام سے استعمال کیا گیا۔ بعد ازاں 1960 کی دہائی میں کیڈیلک نے اسی ٹیکنالوجی کو ’’کروز کنٹرول‘‘کے نام سے اپنایا، جو آج دنیا بھر کی جدید گاڑیوں میں ایک عام فیچر بن چکا ہے۔

رالف ٹیٹر کی یہ ایجاد اس بات کی ایک شاندار مثال ہے کہ محدودیاں انسان کے خوابوں کو نہیں روک سکتیں، بلکہ اکثر انہی سے بڑے آئیڈیاز جنم لیتے ہیں۔

editor

Related Articles