اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کی درخواست پر اعتراض عائد کر دیا ہے، جس کے بعد عدالتی کارروائی میں نیا موڑ آ گیا ہے۔
رجسٹرار آفس کے مطابق درخواست گزار نے مرکزی اپیل پر رجسٹرار کے بروقت اعتراضات دور نہیں کیے، حالانکہ اعتراضات دور کرنے کی مدت سات دن مقرر تھی، جو اب مکمل ہو چکی ہے۔ رجسٹرار کے مطابق اس صورت میں سزا معطلی کی درخواست کی قانونی بنیاد مضبوط نہیں رہتی، جس سے عدالت کو اس معاملے پر فیصلہ دینے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
توشہ خانہ ٹو کیس کی شروعات 2023 میں ہوئی جب بانی پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے سرکاری خزانے کے تحت موصول ہونے والی تحائف اور اشیاء کی تفصیلات درست طور پر پیش نہیں کیں۔ ابتدائی تحقیقات اور ٹرائل کے دوران عدالت نے انہیں سزا سنائی تھی، جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ اپیل کا مقصد سزا معطل کر کے ضمانت پر رہائی حاصل کرنا تھا تاکہ وہ اپیل کے دوران قانونی کارروائی میں شامل ہو سکیں۔
ذرائع کے مطابق رجسٹرار آفس کے اعتراضات کی روشنی میں عدالت کو درخواست کی قانونی حیثیت پر غور کرنا ہوگا اور اپیل پر کارروائی اسی بنیاد پر آگے بڑھائی جائے گی۔ سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ کیس بانی پی ٹی آئی کی قانونی اور سیاسی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اب عدالت سے توقع کی جا رہی ہے کہ رجسٹرار کے اعتراضات دور ہونے یا قانونی وضاحت کے بعد ہی کیس کی سماعت ممکن ہو سکے گی، جس سے بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کے امکان یا رد ہونے کا فیصلہ واضح ہو جائے گا۔