اسرائیل کو جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے فوری انخلا کرنا ہوگا ، ایران

اسرائیل کو جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے فوری انخلا کرنا ہوگا ، ایران

ایران نے لبنان اور خطے کی صورتحال سے متعلق اپنے مؤقف کو ایک بار پھر دوٹوک انداز میں دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے فوری انخلا کرنا ہوگا اور بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں کی اپنے گھروں کو واپسی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے لبنانی ہم منصب کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کے دوران خطے کی تازہ صورتحال، جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ طے شدہ معاہدوں اور مفاہمتی نکات پر مکمل عمل درآمد خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔

محمد باقر قالیباف نے کہا کہ جنوبی لبنان کے عوام کو اپنے گھروں میں باعزت واپسی کا حق حاصل ہے اور اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں سے انخلا کے وعدوں پر عمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ اور کشیدگی سے متاثرہ علاقوں میں معمولات زندگی کی بحالی بین الاقوامی برادری کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے ایران، امریکہ مذاکرات کے نئے دور کا جمعے سے آغاز ہوگا، عباس عراقچی

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف یک طرفہ فیصلے مسلط کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے اور علاقائی معاملات میں طاقت کے زور پر فیصلے قبول نہیں کیے جائیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اپنی سفارتی حکمت عملی اور مؤقف کے ذریعے امریکا کو اپنی شرائط کے مطابق مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے کیے گئے تمام وعدوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان کے ایران امریکہ تنازعہ میں ثالثی کردار کی تعریف

ابراہیم عزیزی نے امریکا پر زور دیا کہ وہ لبنان سے متعلق کیے گئے وعدوں اور مفاہمتی یادداشت کے تمام نکات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی فریق کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی یا وعدوں سے انحراف کی صورت میں سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں جنگ بندی اور سیاسی مفاہمت کے مختلف اقدامات پر عمل درآمد سے متعلق سرگرمیاں جاری ہیں اور عالمی برادری مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے امکانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

editor

Related Articles