بنگلہ دیش میں سیاسی منظرنامہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جہاں 13 ویں جاتیہ سنگسد کے نومنتخب ارکانِ پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوئی جہاں چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم نصیرالدین نے ارکان سے ان کے عہدوں کا حلف لیا۔
تقریب کے دوران نامزد وزیراعظم طارق رحمان نے بھی بطور رکن پارلیمان حلف اٹھایا۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق اب پارلیمان میں ارکان حق رائے دہی استعمال کریں گے جس کے بعد متوقع طور پر طارق رحمان کو باضابطہ طور پر وزیراعظم منتخب کیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایوان میں عددی برتری کے پیش نظر ان کی کامیابی یقینی دکھائی دیتی ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے دو تہائی اکثریت حاصل کی، جسے ملک کی حالیہ سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی قیادت اور کارکنان نے اس کامیابی کو عوامی اعتماد کا مظہر قرار دیا ہے۔
حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کی نمائندگی شہباز شریف کی جگہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے کی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق احسن اقبال اپنے دورے کے دوران بنگلہ دیشی قیادت اور اعلیٰ حکام سے دوطرفہ تعلقات، تجارت اور علاقائی تعاون کے امور پر بھی ملاقاتیں کریں گے۔
قبل ازیں عبوری سربراہ محمد یونس نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ عبوری حکومت اب سبکدوش ہو رہی ہے اور اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً 18 ماہ کے دوران عبوری حکومت نے سیاسی استحکام اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔
محمد یونس نے اپنے خطاب میں کہا کہ ووٹرز اور سیاسی جماعتوں نے جمہوری روایات کو مضبوط بنانے میں مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت آزادی اظہار، آئینی بالادستی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے بی این پی کی کامیابی کو سراہتے ہوئے طارق رحمان کو مبارکباد پیش کی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد شروع ہونے والا عبوری دور اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور ملک ایک نئے جمہوری مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ نئی حکومت کو معاشی استحکام، مہنگائی پر قابو پانے اور سیاسی مفاہمت جیسے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ عوام کی بڑی تعداد نے اس موقع کو تاریخی لمحہ قرار دیا۔ بنگلہ دیش میں نئی منتخب قیادت کے حلف کے ساتھ ہی خطے کی سیاست میں بھی اہم پیش رفت متوقع ہے اور آنے والے دنوں میں کابینہ کی تشکیل اور پالیسی ترجیحات پر نظریں مرکوز رہیں گی۔