امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل ہوں گے۔
اصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ مذاکرات انتہائی اہم ہوں گے اور وہ ان میں براہ راست نہیں بلکہ بالواسطہ کردار ادا کریں گے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران ماضی میں مذاکرات کے دوران سخت مؤقف اختیار کرتا رہا ہے، تاہم گزشتہ سال امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد تہران کو اپنے مؤقف کے نتائج کا اندازہ ہوا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس بار ایران مذاکرات کیلئے سنجیدہ دکھائی دیتا ہے اور ممکنہ طور پر کسی معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ سعودی عرب اوریو اے ای کےدرمیان جھگڑے میں ملوث نہیں تاہم وہ اسے طے کرسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران امریکا جوہری مذاکرات کا دوسرا دور عمان کی ثالثی میں آج جنیوا میں ہوگا۔
اس حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی جنیوا پہنچ گئے، عباس عراقچی نے منصفانہ اور مساوی معاہدے کے حصول کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران دھمکیوں کے آگے سر نہیں جُھکائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنا پیچیدہ عمل ہے لیکن ہم سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں، مذاکرات میں امریکا کی نمائندگی اسٹیو وٹیکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بلواسطہ مذاکرات کا پہلا دور 6 فروری کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوا تھا۔
سوئس حکام نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور اگلے ہفتے جنیوا شہر میں ہوگا جس کی میزبانی سلطنت عمان کرے گی جو اس سے قبل اس ماہ مسقط میں پہلے دور کی میزبانی کر چکی ہے۔