لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خلیل الرحمان خان انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی قانونی برادری اور عدالتی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔
مرحوم کے اہلخانہ کے مطابق ان کی نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ مغرب لاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن کے ڈونگی گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی، جس میں اعلیٰ عدالتی شخصیات، وکلا، سیاسی و سماجی رہنما اور شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
خلیل الرحمان خان کا شمار ملک کے سینیئر اور تجربہ کار ججوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنے عدالتی کیریئر کے دوران متعدد اہم آئینی اور قانونی مقدمات کی سماعت کی اور اپنے متوازن اور مدلل فیصلوں کی بدولت قانونی حلقوں میں عزت و وقار حاصل کیا۔ بطور چیف جسٹس انہوں نے عدالتی اصلاحات، مقدمات کے بروقت فیصلوں اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے۔
وکلا تنظیموں نے ان کے انتقال کو عدلیہ کے لیے بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم ایک اصول پسند اور دیانتدار جج تھے جنہوں نے ہمیشہ قانون کی بالادستی کو مقدم رکھا۔ ان کے ساتھی ججوں اور شاگرد وکلا نے بھی ان کی پیشہ ورانہ دیانت اور شائستگی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
اہلخانہ کے مطابق مرحوم کچھ عرصے سے علیل تھے اور زیر علاج تھے۔ ان کے انتقال پر مختلف شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے، جن میں ان کی عدالتی خدمات اور کردار کو سراہا جا رہا ہے۔
مرحوم کی وفات سے نہ صرف عدالتی برادری بلکہ ملک ایک منجھے ہوئے قانون دان اور باوقار شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔ ان کی قانونی خدمات اور فیصلے طویل عرصے تک یاد رکھے جائیں گے۔