پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی تعمیل میں انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے صوبے بھر کے تمام ضلعی افسران کو اپنے اپنے علاقوں میں پی ٹی آئی کارکنوں اور مظاہرین کی جانب سے بند کی گئی سڑکیں خالی کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
قبل ازیں پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت اور پولیس کو حکم دیا تھا کہ پی ٹی آئی کارکنوں اور مظاہرین کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں کو آج تک کھولا جائے اور راستوں کی بحالی یقینی بنائی جائے۔
یہ حکم جسٹس اعجاز انور کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جاری کیا، جس میں جسٹس فرح جمشید بھی شامل تھیں۔ عدالت نے یہ معاملہ ایم پی اے صبیحہ شاہد، وکیل طارق افغان، صوابی کے رہائشی یوسف علی اور شعور خان کی جانب سے سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران اٹھایا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کارکن گزشتہ چار روز سے خیبر پختونخوا کے داخلہ اور خروج کے راستے بند کیے ہوئے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ پارٹی بانی کو علاج کے لیے اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کیا جائے۔
سماعت کے دوران آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ اور ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل عثمان خیل عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس اعجاز انور نے سوال کیا کہ سڑکیں کتنے دنوں سے بند ہیں۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ سڑکیں گزشتہ تین روز سے بند ہیں، ابتدا میں 14 مقامات پر بندش تھی تاہم اب چھ مقامات پر احتجاج جاری ہے۔
جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ سڑکوں کی بندش قانون کی خلاف ورزی نہیں تو کیا ہے، جبکہ اسلام آباد سے پشاور ہائی کورٹ آنے والے وکلا بھی راستوں کی بندش کے باعث نہیں پہنچ سکے۔ عدالت نے کہا کہ قوانین شہریوں کو نقل و حرکت کی آزادی دیتے ہیں، مگر اس کے باوجود شہری مشکلات کا شکار ہیں۔ عدالت نے سڑکوں کی بندش کے حوالے سے درج ایف آئی آرز کی تعداد بھی دریافت کی۔
جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ پشاور میں ٹریفک کی صورتحال پورے ملک میں بدترین ہے، بلکہ اس صوبے میں ٹریفک سسٹم موجود ہی نہیں۔ اس پر آئی جی ذوالفقار حمید نے عدالت میں بھرپور اتفاق کیا اور بتایا کہ صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ای چالان کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب پولیس کسی کے خلاف کارروائی کرنا چاہے تو کر لیتی ہے، اور جب نہیں چاہتی تو یہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ جسٹس اعجاز انور نے یہ بھی کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ یہاں حکمران جماعت احتجاج کر رہی ہے اور صوبے کے عوام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل عثمان خیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ کوئی بھی غلط عمل کا دفاع نہیں کرے گا۔ سماعت کے دوران آئی جی خیبر پختونخوا نے صورتحال درست کرنے کے لیے دو دن کی مہلت مانگی تاہم جسٹس اعجاز انور نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ سڑکیں آج ہی کھولی جائیں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ آج سے کارروائی شروع کی جائے اور کسی کو بھی سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ پورا ملک کھلا ہے مگر خیبر پختونخوا بند ہے، یہ اپنے ہی عوام کے خلاف ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ موٹر وے کسی صورت بند نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ بند راستوں کے باعث لوگ گھروں سے بھی باہر نہیں نکل پا رہے۔
عدالت میں بتایا گیا کہ مظاہرین نے صوابی کے انبر انٹرچینج پر پشاور-اسلام آباد موٹر وے (ایم-1)، خیرآباد پل پر جی ٹی روڈ، ڈیرہ اسماعیل خان-بھکر روڈ، لکی مروت-میانوالی روڈ، ایبٹ آباد-حویلیاں انٹرچینج پر ہزارہ موٹر وے، خوشحال گڑھ کے قریب کوہاٹ-پنڈی روڈ اور اپر کوہستان-گلگت قراقرم ہائی وے بند کر رکھی ہے۔