ٹی 20ورلڈ کپ میں بڑا اپ سیٹ ہوگیا ہے جہاں سابق چیمپئن آسٹریلیا کی ٹیم ورلڈ کپ سے باہر ہوگئی ہے ،زمبابوے اور آئر لینڈ کا میچ بارش کے باعث نہ ہوسکا دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دیا گیا جس کے سبب زمبابوے نے سپر ایٹ کیلئے کوالیفائی کرلیا ہے ۔
زمبابوے کو اگلے مرحلے میں پہنچنے کے لیے صرف ایک پوائنٹ کی ضرورت تھی میچ نہ ہونے کے باعث دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملا اور زمبابوے کی ٹیم اگلے مرحلے میں پہنچ گئی ۔
پالی کیلے میں کھیلا جانے والا زمبابوے اور آئرلینڈ کے درمیان اہم میچ بارش کے باعث منسوخ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ دے دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد زمبابوے نے آئی سی سی ایونٹ کے سپر 8 مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا، جبکہ آسٹریلیا کی ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔
میچ کے منسوخ ہونے سے قبل زمبابوے قومی کرکٹ ٹیم کو سپر 8 مرحلے میں رسائی کے لیے صرف ایک پوائنٹ درکار تھا، جو اسے بارش کے باعث میچ ختم ہونے پر مل گیا۔ اس طرح زمبابوے نے گروپ بی میں اپنے تین میچز مکمل کرکے 5 پوائنٹس حاصل کر لیے اور اگلے مرحلے کے لیے اپنی جگہ یقینی بنا لی۔
دوسری جانب آسٹریلیا قومی کرکٹ ٹیم کے لیے صورتحال مایوس کن رہی۔ کینگروز ٹیم اپنے تین میچز میں صرف ایک کامیابی حاصل کر سکی اور اسے دو میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث اس کے مجموعی پوائنٹس صرف 2 رہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر کمزور پوزیشن کے باعث آسٹریلیا سپر 8 مرحلے کی دوڑ سے باہر ہو گیا، جو ٹورنامنٹ کا ایک بڑا اپ سیٹ تصور کیا جا رہا ہے۔
گروپ بی میں سری لنکا قومی کرکٹ ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے ہی سپر 8 مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا تھا۔ سری لنکا نے اپنے تین میچز میں مسلسل کامیابیاں حاصل کیں اور مجموعی طور پر 6 پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں سرفہرست رہا۔ گزشتہ روز سری لنکا نے آسٹریلیا کو یکطرفہ مقابلے کے بعد 8 وکٹوں سے شکست دے کر اپنی برتری مزید مستحکم کر لی تھی۔
بارش کے باعث میچ منسوخ ہونا زمبابوے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا، کیونکہ اسے اگلے مرحلے تک پہنچنے کے لیے صرف ایک پوائنٹ درکار تھا۔ دوسری جانب آسٹریلیا جیسے مضبوط اور سابق عالمی چیمپئن کا ابتدائی مرحلے سے ہی باہر ہونا ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا سرپرائز قرار دیا جا رہا ہے۔
یوں گروپ بی سے سری لنکا اور زمبابوے نے سپر 8 مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے، جبکہ آسٹریلیا اور آئرلینڈ کی ٹیموں کا سفر گروپ مرحلے میں ہی ختم ہو گیا۔ یہ نتائج عالمی کرکٹ میں غیر متوقع مقابلے اور ابھرتی ہوئی ٹیموں کی مضبوط کارکردگی کی واضح مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔