امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کو سرکاری ملازمین کو اُن کا جائز حق دینا ہی پڑے گا۔
سرکاری ملازمین کے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ خاندانی جماعتیں ہیں، اور صوبے کے 54 ہزار میں سے 11 ہزار سرکاری اسکول آؤٹ سورس کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “وزیراعلیٰ صاحبہ! کیا اسے گورننس کہتے ہیں؟ سرکاری اسکولوں کو بڑھانے کے بجائے ان سے جان چھڑائی جا رہی ہے۔”
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے تعلیم کے شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں سرکاری ملازمین مشکلات کا شکار ہیں، ان کی پنشن میں کسی قسم کی کٹوتی قبول نہیں کی جائے گی۔ “جماعت اسلامی سرکاری ملازمین کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔”
ان کا کہنا تھا کہ اقتدار میں موجود افراد ایسا تاثر دینا چاہتے ہیں جیسے پنجاب میں مثالی حالات ہوں، جبکہ گریڈ ایک سے گریڈ 22 تک کے ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ لیو انکیشمنٹ، پنشن اور دیگر مراعات ختم کی جا رہی ہیں، جو قابل قبول نہیں۔