بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے عام انتخابات کے انعقاد کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ الوداعی خطاب میں انہوں نے علاقائی معیشت اور جغرافیائی اہمیت پر بات کرتے ہوئے بھارتی قیادت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں آئینہ دکھا دیا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے کہا کہ بنگلا دیش کا سمندر محض قومی سرحد نہیں بلکہ عالمی معیشت سے جڑنے کا دروازہ ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے نیپال، بھوٹان اور ’سیون سسٹرز‘ کو خطے کی بڑی معاشی صلاحیت قرار دیا۔
اگرچہ انہوں نے بھارت کا نام براہِ راست نہیں لیا، تاہم ’سیون سسٹرز‘ کا حوالہ بھارتی حلقوں میں تشویش کا باعث بنا۔ ’سیون سسٹرز‘ کیا ہیں؟ ’سیون سسٹرز‘ دراصل بھارت کے شمال مشرق میں واقع سات ریاستوں —
اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورام، ناگالینڈ اور تریپورہ — کو کہا جاتا ہے۔
یہ ریاستیں جغرافیائی طور پر باقی بھارت سے قدرے الگ تھلگ ہیں اور صرف ’شلی گُری راہداری‘ کے ذریعے مرکزی بھارت سے منسلک ہیں۔ یہ راہداری تقریباً 22 کلومیٹر چوڑی زمینی پٹی ہے جسے اسٹریٹجک اہمیت کے باعث ’چکن نیک‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اسی خطے کے قریب بنگلا دیش، نیپال، بھوٹان اور چین کی سرحدیں واقع ہیں، جو اسے غیر معمولی حساس بناتی ہیں۔
محمد یونس کے بیان کو بھارت میں بعض حلقوں نے اس تاثر کے طور پر لیا کہ وہ ’سیون سسٹرز‘ کو الگ جغرافیائی اکائی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ ان ریاستوں کو ’لینڈ لاکڈ‘ قرار دے کر بنگلا دیش کو ممکنہ سمندری راستہ قرار دے چکے ہیں۔
گزشتہ برس چین کے دورے کے دوران بھی انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کا سمندر سے براہِ راست رابطہ نہیں اور بنگلا دیش اس خطے میں معاشی امکانات کا دروازہ بن سکتا ہے۔ اس بیان پر بھی بھارت میں سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔
یاد رہے کہ اروناچل پردیش پر چین پہلے ہی دعویٰ کرتا ہے اور اسے ’جنوبی تبت‘ قرار دیتا ہے، جس کے باعث یہ خطہ مزید حساس ہو جاتا ہے۔
بنگلا دیش کی تقریباً 94 فیصد سرحد بھارت سے ملتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 4,367 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے۔ بھارت طویل عرصے سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں کے لیے بنگلا دیش کے راستے، خصوصاً چٹاگانگ بندرگاہ، تک رسائی دی جائے۔
مزید جانیئے: طارق رحمان بنگلہ دیش کے 11 ویں وزیراعظم بن گئے، شاندار تقریب میں حلف اٹھا لیا

