سندھ کی حکومت نے ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے تمام امیدواروں کیلئے پیشگی ڈرائیونگ تربیت لازمی قرار دے دی ہے۔ نئے فیصلے کے تحت کسی بھی شخص کو باقاعدہ تربیت مکمل کیے بغیر لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں متعلقہ وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں طے پایا کہ صوبے بھر میں ہلکی اور بھاری گاڑیوں کے ڈرائیوروں کیلئے باقاعدہ تربیتی ادارے قائم کیے جائیں گے تاکہ پیشہ ورانہ معیار بہتر بنایا جا سکے اور سڑکوں پر حادثات میں کمی لائی جا سکے۔
حکومت نے آئندہ پانچ برسوں میں ایک لاکھ ڈرائیوروں کو تربیت دے کر انہیں لائسنس فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہلکی گاڑی چلانے والوں اور بھاری گاڑی چلانے والوں دونوں کیلئے الگ الگ تربیتی نصاب اور عملی مشق کا نظام وضع کیا جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں چار سرکاری فنی و پیشہ ورانہ اداروں میں تربیتی مراکز قائم کیے جائیں گے، جہاں جدید کلاس روم، نظری تعلیم کیلئے کمپیوٹر لیب، عملی مشق کیلئے میدان، سڑک پر ڈرائیونگ کی تربیت، اور موقع پر ہی لائسنس کے اجرا کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ بعد ازاں ضرورت کے مطابق مزید مراکز بھی قائم کیے جائیں گے، خصوصاً کراچی میں بڑے پیمانے پر سہولیات بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد صرف لائسنس کا اجرا نہیں بلکہ باصلاحیت اور تربیت یافتہ ڈرائیور تیار کرنا ہے تاکہ ملکی سطح پر ٹریفک نظم و ضبط بہتر ہو اور بیرون ملک روزگار کے مواقع بھی بڑھ سکیں۔ بتایا گیا کہ پاکستان سے ہر سال ہزاروں ڈرائیور بیرون ملک روزگار کیلئے جاتے ہیں، تاہم سندھ سے جانے والوں کی شرح نسبتاً کم ہے، جسے بہتر بنانے کیلئے معیاری تربیت ضروری ہے۔
حکومت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے اس منصوبے کو جلد از جلد عملی شکل دی جائے تاکہ صوبے میں محفوظ اور ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔