مارکیٹ میں برائلر گوشت کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، تاہم سرکاری نرخ نامے کے مطابق برائلر مرغی کا گوشت 22 روپے فی کلو سستا کر دیا گیا ہے۔ چھٹی کے روز سرکاری نرخ 446 روپے فی کلو مقرر کیا گیا، جس کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ شہریوں کو فوری ریلیف ملے گا۔
مارکیٹ کمیٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فارم گیٹ پر زندہ برائلر مرغی کا ریٹ 280 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح زندہ برائلر کا تھوک ریٹ 294 روپے فی کلو جبکہ پرچون ریٹ 308 روپے فی کلو جاری کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان نرخوں کی پابندی تمام دکانداروں پر لازم ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔
تاہم شہر کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق متعدد مقامات پر سرکاری ریٹ کی خلاف ورزی جاری ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی دکاندار سرکاری قیمت نامہ نمایاں طور پر آویزاں نہیں کرتے اور من مانے دام وصول کر رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں ’صافی گوشت‘ کے نام پر برائلر گوشت 550 روپے فی کلو تک فروخت کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
ایک شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’سرکاری نرخ کچھ اور ہوتے ہیں مگر دکاندار مختلف بہانے بنا کر اضافی رقم وصول کرتے ہیں‘۔ خریداروں کا مطالبہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ فوری چھاپے مار کارروائیاں کرے تاکہ سرکاری نرخ پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب فارمی انڈوں کی قیمت 236 روپے فی درجن برقرار ہے جبکہ ایک پیٹی کا تھوک ریٹ 6 ہزار 960 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ پولٹری فیڈ اور دیگر اخراجات میں اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتیں مستحکم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، تاہم شہری اس مؤقف سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد نہ کرایا گیا تو قیمتوں میں بے ضابطگی کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین کی بڑی تعداد نے ’اوور چارجنگ‘ کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ریٹ لسٹ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عام آدمی کو حقیقی ریلیف مل سکے۔