زیر استعمال سونے اور چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ کے حکم کے حوالے سے مفتیان کرام نے تفصیلی رہنمائی جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر زیورات نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہوں تو ان پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے، خواہ وہ استعمال میں ہوں یا محفوظ رکھے گئے ہوں۔
مفتیان کے مطابق اگر کسی عورت کے پاس 10 سے 11 لاکھ روپے مالیت کا سونا اور چاندی موجود ہے اور وہ سال بھر مختلف مواقع پر باری باری ان زیورات کو استعمال کرتی ہے، تو بھی اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی، بشرطیکہ مالیت نصاب کو پہنچتی ہو۔ شرعی اصول کے مطابق سونا اور چاندی چونکہ اصل زر کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے ان پر سال گزرنے کے بعد ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے۔
علما نے وضاحت کی کہ جس دن سے وہ عورت ان زیورات کی مالک بنی، اسی قمری تاریخ کو یاد رکھے۔ جب ایک قمری سال مکمل ہو جائے اور وہی تاریخ دوبارہ آئے تو کل مالیت کا ڈھائی فیصد بطور زکوٰۃ ادا کرے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ سال کا حساب قمری مہینوں کے مطابق ہوگا، شمسی سال کے مطابق نہیں۔
دوسرے سوال کے جواب میں مفتیان نے کہا کہ اگر اس عورت نے زیور خریدا اور ابھی سال مکمل نہیں ہوا تھا کہ 7 ماہ بعد رمضان المبارک آگیا، تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت یہ کہ وہ پہلے ہی سے صاحب نصاب تھی اور ہر سال رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتی رہی ہے، تو ایسی حالت میں سابقہ اموال کے ساتھ نئے خریدے گئے زیورات کو بھی شامل کر کے زکوٰۃ ادا کرے گی، چاہے ان پر مکمل سال نہ گزرا ہو۔ اس صورت میں ’رمضان کو زکوٰۃ کی تاریخ مقرر کرنا‘ سہولت کے لیے جائز ہے۔
البتہ اگر وہ پہلے صاحب نصاب نہیں تھی اور انہی زیورات کی خریداری سے نصاب کو پہنچی ہے، تو اس صورت میں سال کی تکمیل ضروری ہوگی۔ یعنی جس دن زیور خریدا اور نصاب مکمل ہوا، اسی دن سے سال کا حساب شروع ہوگا اور پورا قمری سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہوگی، خواہ درمیان میں رمضان المبارک آ چکا ہو۔
مفتیان کرام نے اس امر پر بھی زور دیا کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر نہ کی جائے اور مستحقین تک بروقت پہنچائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’زکوٰۃ مال کو پاک کرتی ہے اور معاشرے میں توازن پیدا کرتی ہے‘، اس لیے ہر صاحب نصاب مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اموال کا درست حساب رکھے اور شرعی تقاضوں کے مطابق ادائیگی یقینی بنائے۔