حکومتِ پاکستان کی جانب سے متعارف کرائی گئی ’وزیراعظم الیکٹرک موٹر سائیکل اسکیم‘ کے تحت شہریوں کو سبسڈی پر برقی موٹر سائیکلیں اور رکشے فراہم کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف عوام کو سفری سہولت دینا ہے بلکہ بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنا اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانا بھی ہے۔
انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے سی ای او حماد منصور نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آئندہ 5 برس کے لیے اس منصوبے میں 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ رواں مالی سال کے لیے 9 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس سال ایک لاکھ 16 ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر فی بائیک 80 ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی۔
اسی طرح الیکٹرک رکشہ اسکیم کے تحت ہر رکشے پر 4 لاکھ روپے تک سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد اور دیہاڑی دار طبقہ بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے شہری علاقوں میں شور اور دھوئیں میں واضح کمی آئے گی اور ایندھن کے درآمدی بل میں بھی کمی ممکن ہوگی۔
حماد منصور کے مطابق وزیراعظم الیکٹرک موٹر سائیکلیں دیگر دستیاب برانڈز کے مقابلے میں 50 سے 60 ہزار روپے تک سستی ہوں گی، جبکہ جون تک 76 ہزار موٹر سائیکلیں فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کیلئے تمام مراحل خودکار نظام کے تحت مکمل کیے جائیں گے‘۔
اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے درخواست دہندہ کی عمر کم از کم 18 سال ہونا ضروری ہے اور اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود ہونا لازمی شرط ہے۔ حکام کے مطابق درخواستوں کی جانچ پڑتال، منظوری اور تقسیم کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقہ کار کے تحت ہوگا تاکہ کسی قسم کی بے ضابطگی نہ ہو۔
سی ای او کے مطابق الیکٹرک موٹر سائیکل استعمال کرنے والا شہری ماہانہ پٹرول کی مد میں تقریباً 8 ہزار روپے تک کی بچت کر سکے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو شہری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے‘ اور آئندہ برسوں میں برقی گاڑیوں کا رجحان تیزی سے فروغ پا سکتا ہے۔
حکومت کو امید ہے کہ یہ اسکیم نوجوانوں، طلبہ اور کم آمدنی والے طبقے کیلئے سفری سہولت کو آسان بنائے گی اور ملک میں صاف توانائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔