تحریک طالبان نے کرک میں زخمیوں کو لے جانے والی فرنٹیر کانسٹیبلری کی ایمبولینس پر ڈرون سے بزدلانہ حملہ کیا جس سے پہلے سے زخمی اہلکار مزید جھلس گئے ۔
ذرائع کے مطابق حملہ ڈرون کے ذریعے کیا گیا ،سیکیورٹی اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے،علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
ضلع کرک کے علاقے بہادر خیل میں دہشت گردوں نے ظلم کی تمام حدیں پار کر دیں، جہاں زخمیوں کو بچانے والی ایمبولینس کو بھی آگ لگا دی گئی،اس بز دلانہ حملے کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق پولیس تھانہ خرم محمد زئی کی حدود میں واقع درگہ شہیدان کے قریب فرنٹیئر کانسٹیبلری کی ایمبولینس پر کواڈ کاپٹر ڈرون سے بزدلانہ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے۔
ڈی پی او کرک سعود خان کے مطابق جب ان زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تو راستے میں گھات لگائے دہشت گردوں نے حملہ کردیا،دہشت گردوں نے زخمیوں سمیت ایمبولینس کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں 3 اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ دیگر شدید جھلس گئے۔
بزدل دہشت گردوں نے امدادی کارروائیوں میں مصروف ریسکیو 1122 کے عملے کو بھی نشانہ بنایاواقعے کے فوراً بعد مزید زخمیوں کو خلیفہ گل نواز ہسپتال بنوں منتقل کر دیا گیا ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداوں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
اس سے قبل ضلع بنوں کی تحصیل جانی خیل میں شدت پسند عناصر کی سفاکیت ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی، جہاں ’فتنہ الخوارج‘ سے وابستہ افراد نے جاسوسی کا الزام لگا کر ایک بے گناہ شہری کو اغوا کیا پھر اس کی گردن کاٹ کر لاش سڑک پر پھینک دی۔
مقامی ذرائع کے مطابق جانی خیل کے علاقے ہندی خیل میں اشرف نامی شہری کو اغوا کیا گیا اور بعد ازاں اس کی گردن کاٹ کر لاش سڑک کنارے پھینک دی گئی۔ واقعے نے پورے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے جبکہ لواحقین شدید صدمے سے دوچار ہیں۔
یاد رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہ گزشتہ برس بھی مقتول کے بھائی عثمان کو اسی نوعیت کے حملے میں جان سے محروم کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح کچھ عرصہ قبل ہندی خیل ہی کے رہائشی فخرالدین کو مبینہ طور پر اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کا بازو توڑ دیا گیا تھا۔ ان مسلسل واقعات نے علاقے کے امن و امان پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں گشت اورانٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کو جلد گرفتار کرنے کیلئے مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔