خیبر پختونخوا میں بھکاری مافیا کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے انسداد گداگری بل کا ڈرافٹ منظوری کے لئے صوبائی کابینہ کو بھجوا دیا گیا ہے، مجوزہ قانون کے تحت منظم اور جبری بھیک میں ملوث عناصر کو تین سال تک قید اور چار لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔
بل کے مطابق بچوں کو بھیک پر لگانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی جبکہ جعلی معذوری یا دھوکہ دہی کے ذریعے بھیک مانگنا سنگین جرم قرار دیا جائے گا۔ فراڈ کے ذریعے بھیک مانگنے پر ایک سے دو سال قید، جبکہ بار بار بھیک مانگنے پر ایک سال تک قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
سادہ بھیک مانگنے والوں کو پہلی بار وارننگ دی جائے گی، بعد ازاں انہیں بحالی مرکز بھیجا جا سکتا ہے یا ایک ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ گداگری میں ملوث افراد کا مکمل بائیومیٹرک ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا۔
قانون کے تحت منظم بھیک میں ملوث عناصر کے شناختی کارڈ بلاک کرنے، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش وفاقی حکومت کو کی جائے گی۔ عملی نفاذ اور نگرانی کیلئے وزیر قانون کی سربراہی میں اسٹیئرنگ کمیٹی قائم ہوگی جس میں سول سوسائٹی کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
بل میں گداگروں کیلئے بحالی مراکز قائم کرنے، انہیں ہنر و تربیت دینے، جبکہ بھکاری بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن سینٹر منتقل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ بچوں کو ہر قسم کی سزا اور جرمانے سے مستثنیٰ رکھا جائے گا،مزید برآں ایک خصوصی فنڈ قائم کیا جائے گا جس میں حکومتی گرانٹس کے ساتھ ملکی و بین الاقوامی عطیات بھی وصول کئے جا سکیں گے۔