افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کی جانب سے کی گئی قانونی اور دفاعی کارروائی پر ایمنسٹی ساؤتھ ایشیا کی ریجنل ڈائریکٹر سمریتی سنگھ کا فوری ردعمل سامنے آیا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ردعمل ایک بار پھر جانبدارانہ اور دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
سمریتی سنگھ نے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سوالات اٹھائے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس حقیقت کو نظرانداز کیا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا بدترین شکار رہا ہے۔
گزشتہ ماہ اسلام آباد کی ایک مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 30 سے زائد معصوم نمازی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے، مگر اس سنگین سانحے پر نہ ایمنسٹی ساؤتھ ایشیا کی فوری تشویش سامنے آئی اور نہ ہی سمریتی سنگھ کی جانب سے کوئی مؤثر ردعمل دیا گیا۔
اسی طرح دو روز قبل لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور ایک سپاہی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے، جبکہ حالیہ دنوں میں ایک اور افسوسناک واقعے میں بھارتی پراکسیز سے منسلک دہشت گردوں نے ایک ایمبولینس پر فائرنگ کے بعد زخمی اہلکاروں کو اسی ایمبولینس میں زندہ جلا دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انسانیت سوز واقعات بھی ایمنسٹی کی ترجیحات میں شامل دکھائی نہیں دیے۔
منگل کے روز کوہاٹ کے نواحی علاقے شکردرہ روڈ پر بھی دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا، جہاں پولیس موبائل پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی واحد محمود سمیت 6 پولیس اہلکار اور ایک بے گناہ راہگیر شہری شہید ہو گئے۔ پولیس اہلکار معمول کی گشت پر تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے گھات لگا کر حملہ کیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سیکیورٹی فورسز نے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
ان تمام واقعات کو پاکستان میں جاری دہشت گردی کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک فرنٹ لائن ریاست ہے جہاں روزانہ سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں۔
اس کے باوجود سمریتی سنگھ پاکستان کے قانونی حقِ دفاع کو سوالیہ نشان بناتی ہیں، جبکہ شہداء کی قربانیاں، عبادت گاہوں میں بہنے والا خون اور سڑکوں پر ہونے والی ہلاکتیں ان کی رپورٹنگ میں جگہ نہیں پاتیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طرزِ عمل اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ انسانی حقوق کا اطلاق عالمگیر اصول کے تحت نہیں بلکہ مخصوص سیاسی مفادات کے تابع کیا جا رہا ہے۔
مزید برآں، سمریتی سنگھ کی 2023 سے قیادت میں ایمنسٹی ساؤتھ ایشیا پر غیر جانبداری ترک کرنے اور بھارت کا غیر اعلانیہ ترجمان بننے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ادارے کی رپورٹنگ میں پاکستان پر غیر متناسب تنقید کی جاتی ہے جبکہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی مبینہ خلاف ورزیوں، خصوصاً گزشتہ تین ماہ کے دوران منی پور میں مسلح جارحیت اور شہری نقصانات، کو نظرانداز کیا گیا۔
انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں مکمل طور پر قانونی، نہایت درست اور ناگزیر ضرورت کے تحت کی گئی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے فطری حقِ دفاع کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان نے افغان سرزمین سے سرگرم کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے زیرِ استعمال تصدیق شدہ کیمپوں کو نشانہ بنایا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں صرف دہشت گرد عناصر کو ہدف بنایا گیا اور کسی بھی شہری کو نقصان نہیں پہنچا، جو بین الاقوامی انسانی قانون اور امتیاز و تناسب کے اصولوں کی پابندی کا ثبوت ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کی قیادت میں قائم افغان حکام اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنے میں یا تو غیر سنجیدہ ہیں یا ناکام۔ “نہ چاہنے یا نہ کر سکنے” کے اصول اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 کے تحت پاکستان کو ضروری اور متناسب کارروائی کا حق حاصل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ محض دو طرفہ نہیں بلکہ علاقائی سلامتی کا بحران ہے۔ روسی سیکریٹری شوئیگو نے تاجکستان–افغانستان سرحد کو اہم سیکیورٹی ہاٹ اسپاٹ قرار دیا، جبکہ تاجکستان نے 2025 میں سترہ سرحد پار جھڑپوں کی اطلاع دیتے ہوئے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے خلاف سرحدوں کو محفوظ بنانے میں طالبان کی ناکامی کی مذمت کی۔
فروری 2026 کی سلامتی کونسل رپورٹس کے مطابق 21 بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں جو پاکستان، وسطی ایشیا اور دیگر خطوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے واضح شواہد کے باوجود ایمنسٹی انٹرنیشنل کے علاقائی پلیٹ فارم کے بیانات حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہیں اور جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کی نگرانی کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔
پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمریتی سنگھ کی قیادت میں پائی جانے والی جانبداری کو تسلیم کرے، فوری اصلاحی اقدامات کرے اور اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں حقِ دفاع کے تحت قانونی اقدامات ہیں۔