پنجاب حکومت کی جانب سے جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے کیے گئے اصلاحاتی اقدامات کو عالمی سطح پر بڑی پذیرائی مل گئی ہے۔ بین الاقوامی اداروں نے صوبے میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے انہیں گڈ گورننس اور پائیدار صنعتی ترقی کی مثال کہا ہے۔
ذرائع کے مطابق عالمی اداروں فریڈم فنڈ (FSF) اور کمیونٹی انگیجمنٹ فورم (CEF) نے پنجاب حکومت کی جانب سے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے کیے گئے عملی اقدامات کو سراہا ہے۔ ان اداروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں قانون سازی، نگرانی کے نظام اور صنعتی شعبے میں اصلاحات کے باعث مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
پنجاب میں جبری چائلڈ لیبر کے مکمل خاتمے کے لیے 15 رکنی ہائی لیول اسٹیئرنگ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جو مختلف محکموں کے درمیان رابطے کو مؤثر بنانے اور عملی اقدامات کی نگرانی کرے گی۔ کمیٹی پالیسی سازی، نفاذ اور مانیٹرنگ کے عمل کو مربوط انداز میں آگے بڑھائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب اسمبلی میں گیارہ ارب کے خریدے گئے جہاز کا چرچا،شکوہ جواب شکوہ،بلاول پر بھی تنقید
صوبائی حکومت نے پنجاب لیبر کوڈ 2026 بھی متعارف کرا دیا ہے، جسے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور صنعتی اصلاحات کے حوالے سے اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کوڈ کے تحت لیبر قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، جبری مشقت کے خاتمے، کم عمر بچوں سے مشقت کی روک تھام اور مزدوروں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
حالیہ دنوں ایک بین الاقوامی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اور پنجاب میں جاری اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لیا۔ وفد نے اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پالیسی سازی اور عملی اقدامات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دس روپے کا نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ،نوٹ کی جگہ سکہ کیوں ؟خزانے کو کتنا فائدہ ہوگا۔سب بتا دیا گیا

