افغان طالبان غلط فہمی میں مبتلا ہیں ان کی غلط فہمی آج رات ہی دور کریں گے،طلال چوہدری

افغان طالبان غلط فہمی میں مبتلا ہیں ان کی غلط فہمی آج رات ہی دور کریں گے،طلال چوہدری

 وزیر مملکت برائے داخلہ  طلال چوہدری نے کہا ہے کہ سات گنا بڑے ملک نے بھی پاکستان کے سامنے منہ کی کھائی تھی اور وہ آج تک سر نہیں اٹھا سکا، افغان طالبان کی اتنی جرات نہیں کہ وہ کسی ایک پوسٹ پر بھی قبضہ کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

 نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ نے بتایا کہ افطاری سے قبل بارڈر کے ایک جانب سے حملے کی کوشش کی گئی جس پر پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ملک کے لیے پاکستان نے وہ کچھ کیا جو شاید انہوں نے خود بھی اپنے لیے نہ کیا ہو گا، لیکن اس کے باوجود سرحدی علاقوں میں کشیدگی پیدا کی گئی۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ افغان طالبان رجیم کے خلاف بڑے ردعمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم گوریلا مائنڈ سیٹ کے تحت اپنی ریاست چلانا چاہ رہی ہے، جبکہ پاکستان کا مطالبہ وہی ہے جو پوری دنیا کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم مالی مفادات کی وجہ سے دہشت گردی کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان نے افغانستان کے خلاف “غضب للحق” کے نام سے آپریشن شروع کر دیا،سیکورٹی ذرائع

وزیر مملکت نے  کہا کہ افغان طالبان کو آج کی رات ہی معلوم ہو جائے گا کہ جواب کس طرح دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی رات کے بعد جب دن نکلے گا تو دنیا دیکھے گی کہ پاکستان کس طرح ردعمل دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان کی یہ غلط فہمی آج  رات ہی دور کر دی جائے گی۔

  انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو پاکستان کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاست امن کے قیام کے لیے اپنی تمام طاقت استعمال کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ افغان طالبان بچوں کو حملہ آور بنا کر بھیجتے ہیں جو ایک انتہائی تشویشناک مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتا ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے امن کو چھیننے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق افغان طالبان نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں جارحیت کی ہے اور اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *