سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستانی افواج نے فوری اور مؤثر کارروائی کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جوابی حملوں کے بعد افغان طالبان طورخم بارڈر سے پسپا ہو گئے اور ٹرکوں پر سامان منتقل کرتے ہوئے علاقے سے نکل گئے۔
اہم چیک پوسٹوں اور سرحدی مقامات پر کنٹرول
سیکیورٹی حکام کے مطابق پاکستانی فورسز نے متعدد افغان پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کرلیا اور اہم چیک پوسٹوں پر قومی پرچم لہرا دیا گیا۔ خرلاچی ٹرمینل سمیت مختلف سرحدی مقامات پر افغان طالبان کی کئی پوسٹیں تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
فضائی کارروائیاں اور اہم تنصیبات کی تباہی
ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے ننگرہار کے علاقے میں ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کیا۔ مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں افغان طالبان کے اہم عسکری ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
عسکری اہداف کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مؤثر جوابی حملوں میں افغان طالبان کے درجنوں اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 16 پوسٹیں تباہ اور 7 پر قبضہ کرلیا گیا، جبکہ ایک بٹالین ہیڈکوارٹر اور ایک سیکٹر ہیڈکوارٹر کو بھی ناکارہ بنایا گیا۔
مزید کہا گیا ہے کہ 30 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور بکتر بند گاڑیاں (اے پی سیز) تباہ کی گئیں۔
گرفتاریاں اور آپریشن “غضب للحق”
سیکیورٹی فورسز کے مطابق طورخم کے علاقے سے چار افغان طالبان کارندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق “آپریشن غضب للحق” کے دوران مجموعی طور پر 72 جنگجو ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ متعدد عسکری تنصیبات تباہ کی گئیں۔
سرحدی صورتحال اور حکام کا مؤقف
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیاں ملکی دفاع اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق کسی بھی سرحدی خلاف ورزی یا اشتعال انگیزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ سرحدی علاقوں میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔