حال ہی میں دانانیر مبین نےسمتھنگ ہوتے کے پروگرام ’ہوتے ٹالک‘ میں شرکت کی جہاں انہوں نے محبت، کیریئر اور پاکستانی شوبز انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے شپنگ کلچر پر کھل کر بات کی
پاکستانی اداکارہ اور سوشل میڈیا اسٹار دانانیر مبین ان دنوں اپنی آنے والی فلم ’میرا لیاری‘ کی پروموشن میں مصروف ہیں، جو کراچی کے علاقے لیاری پر مبنی ایک اسپورٹس ڈرامہ فلم ہے۔ اس فلم کو ابو علیحہ نے لکھا اور ڈائریکٹ کیا ہے۔ دانانیر مبین اس سے قبل صنفِ آہن، محبت گمشدہ میری، میم سے محبت اور ویری فلمی جیسے مشہور ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کی مقبولیت بے حد زیادہ ہے اور ان کے فالوورز کی تعداد تقریباً 60 لاکھ کے قریب ہے۔
محبت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے دانانیر مبین نے کہا کہ میں کبھی بھی محبت کے لیے اپنے خوابوں اور کیریئر پر سمجھوتہ نہیں کروں گی۔ میں اتنی پاگل محبت میں یقین نہیں رکھتی کہ کسی شخص کے پیچھے اپنی زندگی خراب کر لوں۔ جیسے جیسے میں بڑی ہوئی ہوں، مجھے احساس ہوا ہے کہ میری زندگی اور میرا کیریئر زیادہ اہم ہیں۔ اگر میری زندگی میں کوئی آئے گا تو خوش آمدید، لیکن ایسا نہیں کہ میں کسی ایسے انسان کے لیے روؤں یا اس کے پیچھے بھاگتی پھروں جو مجھے اہمیت ہی نہ دے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ میں محبت کے لیے خود کو تکلیف میں نہیں ڈال سکتی۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ کسی کے لیے روتی رہوں۔ محبت کو زبردستی نہیں کیا جا سکتا۔دانانیر مبین نے پاکستانی شوبز انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے شپنگ کلچرپر بھی بات کی، جہاں مداح اداکاروں کو حقیقی زندگی میں ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں۔
اس بارے میں انہوں نے کہا کہ فینز اکثر اداکاروں کو ایک ساتھ جوڑ دیتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ یہ سب حقیقت ہے، لیکن یہ چیز مجھے کافی اَن کمفرٹیبل محسوس کرواتی ہے۔ اس کا اثر صرف مجھ پر نہیں بلکہ میری فیملی پر بھی پڑتا ہے۔
دانانیر مبین کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خیالات پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ کئی مداحوں نے ان کی خودداری اور کیریئر فوکسڈ سوچ کو سراہا، جبکہ کچھ لوگوں نے ان کے بیانات پر دلچسپ تبصرے بھی کیے۔