ہالی ووڈ کی مشہور فلم سیریز کی نئی قسط دیول وئیرز پراڈا 2 ریلیز سے قبل ہی شدید تنازعے اور آن لائن بائیکاٹ کی مہم کی زد میں آ گئی ہے۔ مختلف ممالک خصوصاً چین، جاپان، جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ کے ناظرین نے فلم کے ایک نئے کردار پر اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔
تنازع اس وقت شروع ہوا جب فلم کے ایک جاری کیے گئے پروموشنل کلپ میں شامل کردار’جن چاؤ‘ کو دکھایا گیا، جس کے بارے میں ناظرین کا کہنا ہے کہ اس نام کی آواز ایک متنازع اور نسل پرستانہ اصطلاح سے ملتی جلتی ہے، جو ماضی میں ایشیائی زبانوں کا مذاق اڑانے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے۔
کلپ میں یہ کردار، جسے اداکارہ ہیلن جے شین نے ادا کیا ہے، خود کو تعلیمی طور پر انتہائی قابل ظاہر کرتی ہے اور اپنے ییل یونیورسٹی سے تعلق، اعلیٰ جی پی اے(GPA) اور دیگر کامیابیوں کا ذکر کرتی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ انداز ایک بار پھر ایشیائی کرداروں کو پرانے اور محدود سٹیریوٹائپس میں دکھانے کے مترادف ہے۔
وائرل منظر میں کردار یہ بھی کہتا ہے کہ وہ ییل یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہے، اس کا جیپی اے 3.86 ہے وہ ایک معروف کوئر گروپ کی لیڈ سوپرانو رہی ہے اور اس نے پہلی ہی کوشش میں 36 اسکور حاصل کیا۔
اس پر ایشیائی ناظرین اور مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ ہالی ووڈ اب بھی ایشیائی کرداروں کو غیر حقیقت پسندانہ اور محدود انداز میں پیش کر رہا ہے، جو ان کمیونٹیز کے بارے میں غلط تاثر کو تقویت دیتا ہے۔
ایشین امریکن فاؤنڈیشن تاف (TAAF) نے بھی اس معاملے پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا میں ایشیائی کرداروں کی نمائندگی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ افسوسناک ہے کہ جدید دور میں بھی ایسے سٹیریوٹائپس سامنے آتے ہیں جو کمیونٹی کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔
ادھر فلم سے وابستہ پروڈکشن کمپنی ٹوینٹیتھ سینچری سٹوڈیو کی جانب سے تاحال اس تنازعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔یاد رہے کہ یہ فلم مشہور ہدایتکار ڈیوڈ فرینکل کی ہدایت کاری میں بنائی گئی ہے، جو تقریباً 20 سال بعد اصل کاسٹ کو دوبارہ اکٹھا کر رہی ہے۔ اس میں مرکزی کردار ایملی بلنٹ،عینا ہیتھ اوے،میرلے سٹریپ اورسٹنلے توسی ادا کر رہے ہیں۔
فلم کے کلپ کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاکھوں بار دیکھا گیا ہے، جہاں صارفین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے گروپس نے اس پر کھل کر بحث کی ہے۔ کچھ ناقدین کے مطابق یہ معاملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ فلم انڈسٹری میں اب بھی نمائندگی اور حساسیت کے مسائل موجود ہیں، جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔