امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں مزید کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں ایک حالیہ سروے میں ان کی پسندیدگی کی شرح میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کمی امریکی عوام کے اعتماد کی کمزوری کا اظہار لگتا ہے اور یہ رجحان آنے والے سیاسی منظرنامے پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
رائٹرز اور اپسوس کے سروے کے مطابق امریکا کے صرف 34 فیصد ووٹر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں یہ شرح گزشتہ سروے میں 36 فیصد تھی جبکہ موجودہ سروے ٹرمپ پر حملے سے پہلے کا ہے۔
فوربز رپورٹ کیمطابق 85 فیصد سے زیادہ ووٹر اس بات پر فکر مند ہیں کہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں زندگی کے اخراجات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، اور آدھے سے کچھ زیادہ 52 فیصد ووٹر کہتے ہیں کہ معیشت ٹرمپ کے تحت اس سے بدتر ہے جتنی صدر جو بائیڈن کے تحت تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ جب صدر بنے تھے تو47 فیصد امریکی ووٹر ان سے خوش تھے جبکہ اب ٹرمپ کی ریٹنگ میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد ٹرمپ کی عوامی حمایت کو شدید دھچکا پہنچا جس کے نتیجے میں پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ صرف 22 فیصد افراد نے مہنگائی کے معاملے پر ٹرمپ کی کارکردگی کو مثبت قرار دیا، جو پہلے 25 فیصد تھی۔
سروے میں امریکی صدر کی مقبولیت میں کمی کی وجہ ایران پر حملے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نظر آرہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت آئندہ صدارتی دوڑ پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، جبکہ یہ رجحان امریکی سیاست میں بدلتی عوامی ترجیحات کی بھی عکاسی کرتا ہے، آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ٹرمپ اس چیلنج سے کیسے نمٹتے ہیں اور اپنی سیاسی پوزیشن کو کس حد تک مستحکم کر پاتے ہیں۔