ایران پر امریکی پابندیوں کا دائرہ وسیع، مزید 35ادارے اور شخصیات زد میں

ایران پر امریکی پابندیوں کا دائرہ وسیع، مزید 35ادارے اور شخصیات زد میں

امریکا نے ایران پر دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے 35 اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں جنہیں بین الاقوامی مالیاتی اور تیل کی ترسیل کے نیٹ ورک سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ ادارے ایران کے بینکاری نظام کو سہولت فراہم کرنے اور اربوں ڈالر مالیت کی تیل برآمدات میں کردار ادا کر رہے تھے۔محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے او ایف اے سی نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے، اور وہ بینک بھی نشانے پر آ سکتے ہیں جو ایران سے متعلق ادائیگیوں یا تجارتی لین دین میں شامل کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کی مالی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت: امریکہ کی بھارت سمیت دیگر ممالک کے 32 اداروں پر پابندیاں

بیان میں چین کے صوبے شینڈونگ میں قائم بعض آئل ریفائنریز کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جہاں مبینہ طور پر کچھ آزاد کمپنیاں ایرانی تیل درآمد یا ریفائن کرتی ہیں۔ امریکا کے مطابق ایسے تجارتی روابط ایران کو عالمی پابندیوں کے باوجود آمدنی حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں سے جاری ہے  جس میں جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور اقتصادی پابندیاں بنیادی تنازع رہی ہیں۔ 2018 کے بعد سے امریکا نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کیں، جس کے بعد تہران نے متبادل تجارتی راستوں اور غیر رسمی مالی نیٹ ورکس پر انحصار بڑھا دی

editor

Related Articles