امریکا نے ایران پر دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے 35 اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں جنہیں بین الاقوامی مالیاتی اور تیل کی ترسیل کے نیٹ ورک سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ ادارے ایران کے بینکاری نظام کو سہولت فراہم کرنے اور اربوں ڈالر مالیت کی تیل برآمدات میں کردار ادا کر رہے تھے۔محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے او ایف اے سی نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے، اور وہ بینک بھی نشانے پر آ سکتے ہیں جو ایران سے متعلق ادائیگیوں یا تجارتی لین دین میں شامل کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کی مالی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔
بیان میں چین کے صوبے شینڈونگ میں قائم بعض آئل ریفائنریز کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جہاں مبینہ طور پر کچھ آزاد کمپنیاں ایرانی تیل درآمد یا ریفائن کرتی ہیں۔ امریکا کے مطابق ایسے تجارتی روابط ایران کو عالمی پابندیوں کے باوجود آمدنی حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں سے جاری ہے جس میں جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور اقتصادی پابندیاں بنیادی تنازع رہی ہیں۔ 2018 کے بعد سے امریکا نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کیں، جس کے بعد تہران نے متبادل تجارتی راستوں اور غیر رسمی مالی نیٹ ورکس پر انحصار بڑھا دی