وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم ہونے والی نیشنل فرانزک ایجنسی نے باقاعدہ طور پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا پنجاب پر انحصار بڑی حد تک ختم ہو گیا ہے۔
حکام کے مطابق ادارے کے قیام کے بعد ابتدائی مرحلے میں انگلیوں کے نشانات، برقی شواہد کی جانچ، منشیات کی کیمیائی جانچ اور دیگر سائنسی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔اس ادارے کا مرکزی دفتر گزشتہ سال اسلام آباد میں قائم کیا گیا تھا اور اب صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے مقدمات کی جانچ کے لیے فائلیں یہاں موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
ادارے میں تحقیق عدالتی سائنسی معائنہ اور برقی شواہد کے تجزیے کے لیے الگ الگ شعبے قائم کیے گئے ہیں، حکام کے مطابق یہ ادارہ مصنوعی طور پر تیار کی گئی جعلی ویڈیوز اور پیچیدہ برقی جرائم کی تحقیقات کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ جائے وقوعہ کی تفتیش، اسلحہ اور اوزاروں کے نشانات کی جانچ اور جینیاتی مواد کی بنیاد پر رپورٹ تیار کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی مزید برآں زہر خورانی کی جانچ، خون اور جسمانی رطوبتوں کے تجزیے، مرضیات اور دھماکہ خیز مواد کی جانچ کے لیے بھی خصوصی انتظامات موجود ہیں۔
ادارے کا برقی شواہد کا شعبہ قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں بھی معاونت فراہم کرے گا، اس کے ذریعے پولیس ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سائنسی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ نہ صرف برقی اور سائنسی شواہد کو محفوظ بنانے میں مدد فراہم کرے گا بلکہ عدالتوں میں ماہرین کی حیثیت سے پیش ہو کر قانونی کارروائی میں بھی معاونت کرے گا جس سے تفتیشی نظام مزید مؤثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے گا۔