ایران کی سیاست کا خاموش کھلاڑی ، علی لاریجانی کے اثر و رسوخ کی اندرونی کہانی

ایران کی سیاست کا خاموش کھلاڑی ، علی لاریجانی کے اثر و رسوخ کی اندرونی کہانی

ایران کی بااثر سیاسی و سلامتی شخصیت علی لاریجانی کی زندگی، جدوجہد اور سیاسی سفر کئی حوالوں سے منفرد اور اثر انگیز رہا۔ وہ عراق کے مقدس شہر نجف میں پیدا ہوئے اور ایک مذہبی و سیاسی طور پر مضبوط خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جس نے انہیں ابتدائی سطح پر ہی قیادت اور فکری میدان میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔

علی لاریجانی نے ابتدائی تعلیم کے بعد ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی، جبکہ بعد ازاں جامعہ تہران سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کی۔ وہ جرمن فلسفی Immanuel Kant کے نظریات پر گہری نظر رکھتے تھے اور اس موضوع پر متعدد تحریریں بھی لکھتے رہے۔

انہوں نے عملی زندگی کا آغاز پاسدارانِ انقلاب ایران میں شمولیت سے کیا، جہاں سے وہ بتدریج ایران کی داخلی سیاست، قومی سلامتی اور خارجہ امور میں ایک مضبوط اور بااثر آواز کے طور پر ابھرے۔ طویل سیاسی کیریئر کے دوران وہ پارلیمنٹ، سکیورٹی پالیسی اور سفارتی محاذ پر کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق وہ ایک مبینہ اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے، جس کے بعد پورے خطے میں گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ان کی شہادت پر مختلف حلقوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور انہیں ایک نڈر اور اصولی رہنما کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔

علی لاریجانی ایران کے ان چند رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے تقریباً پانچ دہائیوں تک مختلف اعلیٰ سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ بارہ سال تک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور اس دوران قانون سازی اور ریاستی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے مرکزی مذاکرات کار بھی رہے اور عالمی سطح پر اہم مذاکرات میں ایران کی نمائندگی کی۔

یہ بھی پڑھیں:پاک فوج کی طورخم سیکٹر پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف موثر کارروائی،طالبان پوسٹ تباہ

اگست دو ہزار پچیس میں وہ دوبارہ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ مقرر ہوئے، جو ملک کے دفاع، انٹیلی جنس اور خارجہ پالیسی کے اہم معاملات کی نگرانی کرتی ہے۔ اس سے قبل بھی وہ دو ہزار پانچ سے دو ہزار سات تک اسی منصب پر خدمات انجام دے چکے تھے۔ اس کے علاوہ وہ وزیر ثقافت سمیت دیگر اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔

انہیں ایران کی قدامت پسند مگر نسبتاً معتدل سوچ رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ وہ علی خامنہ ای کے قریبی مشیر سمجھے جاتے تھے اور قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل میں ان کا کردار نمایاں تھا۔

علی لاریجانی اپنے جرات مندانہ بیانات کے باعث بھی جانے جاتے تھے۔ انہوں نے متعدد مواقع پر امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی اور مسلم دنیا کو خبردار کیا کہ وہ خطے کی بدلتی صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ امریکا قابلِ اعتماد نہیں جبکہ اسرائیل کو وہ کھلا دشمن قرار دیتے تھے۔

ان کی زندگی کو مسلسل خطرات لاحق رہے، تاہم اس کے باوجود وہ عوامی اجتماعات میں بغیر خوف کے شریک ہوتے رہے۔ ایک موقع پر انہوں نے حضرت امام حسین کا قول شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ موت کو عزت اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو ذلت سمجھتے ہیں۔

اپنے آخری بیانات میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ ایران کسی بھی ممکنہ طویل جنگ کے لیے تیار ہے اور خطے کے ممالک کو اپنے مستقبل کے حوالے سے سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

علی لاریجانی کی وفات کے بعد نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیاست میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے، اور انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے جو اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑا رہا۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles