ایک خطرناک آئی فون ہیکنگ ٹول، جس کا نام ’ڈارک سورڈ‘ ہے، کے لیک ہونے کے بعد دنیا بھر میں ایپل صارفین کے ڈیٹا اور دیگر حساس معلومات پر سنگین خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’ٹیک کرنچ‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ جاسوسی سافٹ ویئر اب انٹرنیٹ پر عام دستیاب ہے، جس کی وجہ سے ہیکنگ کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ سافٹ ویئر گٹ ہب پر شائع کیا گیا ہے اور اسے آسانی سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس ٹول کو استعمال کرنے کے لیے اعلیٰ تکنیکی مہارت کی ضرورت نہیں، جس کی وجہ سے عام ہیکرز بھی چند منٹوں میں متاثرہ ڈیوائس پر حملہ کر سکتے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی کمپنی ’آئی ویریفائی‘ کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ اسپائی ویئر متاثرہ ڈیوائس سے رابطہ نمبرز، پیغامات، کال ریکارڈز اور محفوظ پاس ورڈز سمیت حساس معلومات چوری کر سکتا ہے۔
یہ خطرہ خاص طور پر ان آئی فون اور آئی پیڈ صارفین کو لاحق ہے جو پرانے سافٹ ویئر ورژن استعمال کر رہے ہیں، خصوصاً iOS 18 کے پرانے اپڈیٹس والے آلات زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
گوگل کے ماہرین نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ پرانے سسٹمز پر مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے۔
ایپل نے اس مسئلے کو تسلیم کرتے ہوئے صارفین سے فوری اپڈیٹ کرنے کی ہدایت کرتے کہا ہے کہ تازہ ترین سافٹ ویئر ورژن اس خطرے سے محفوظ ہیں اور اضافی تحفظ کے لیے لاک ڈاؤن موڈ فعال کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ڈھائی ارب فعال ایپل ڈیوائسز موجود ہیں، جن میں سے بڑی تعداد ابھی تک پرانے سافٹ ویئر پر چل رہی ہے، جس کے باعث کروڑوں صارفین ممکنہ سائبر حملوں کے خطرے میں ہیں۔
سائبر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ہیکنگ کی کوششیں بڑھ سکتی ہیں، لہٰذا صارفین کو مشکوک لنکس اور ویب سائٹس سے دور رہنا چاہیے اور فوری طور پر سافٹ ویئر اپڈیٹ کرنا چاہیے۔