پی ٹی اے کے نام پر آن لائن فراڈ کی وارداتوں میں اضافہ ہونے لگا، جعلساز شہریوں کو فون کالز، ایس ایم ایس اور ای میلز کے ذریعے دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میڈیا ذرائع کے مطابق سائبر فراڈ میں ملوث عناصر خود کو پی ٹی اے کا نمائندہ ظاہر کر کے صارفین سے حساس اور ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان جعلی رابطوں میں اکثر صارفین کو مختلف بہانوں سے ڈرایا یا لالچ دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی خفیہ معلومات شیئر کر دیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر پی ٹی اے نے شہریوں کے لیے خصوصی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ادارہ کبھی بھی صارفین سے فون، ای میل یا ایس ایم ایس کے ذریعے پاسورڈ، پن کوڈ، شناختی کارڈ نمبر، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات یا دیگر خفیہ معلومات طلب نہیں کرتا۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ عوام پی ٹی اے کے نام سے موصول ہونے والی کسی بھی مشکوک کال، پیغام یا ای میل پر فوری یقین نہ کریں اور نہ ہی کسی نامعلوم شخص کے ساتھ اپنی معلومات شیئر کریں۔
پی ٹی اے نے واضح کیا کہ آن لائن فراڈ سے بچنے کے لیے سب سے اہم قدم یہ ہے کہ صارفین ہر ای میل، ایس ایم ایس یا کال کرنے والے کی شناخت کی تصدیق کریں۔
ادارے کے مطابق سوشل میڈیا، ای میل یا ٹیکسٹ میسج کے ذریعے موصول ہونے والے مشکوک لنکس خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے موبائل فون یا کمپیوٹر سے ذاتی ڈیٹا چوری کیا جا سکتا ہے۔
شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی نامعلوم یا مشکوک لنک پر کلک نہ کریں اور اگر پی ٹی اے کے نام سے کوئی غیر معمولی پیغام موصول ہو تو اس کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
ماہرین کے مطابق آن لائن فراڈ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جہاں جعلساز سرکاری اداروں کے نام استعمال کر کے عوام کو نشانہ بناتے ہیں، اسی لیے صارفین کو ہر آن لائن رابطے میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔پی ٹی اے نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، پاسورڈز، پن کوڈز اور مالی تفصیلات کو مکمل طور پر محفوظ رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سائبر فراڈ سے بچا جا سکے۔