بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر متضاد بلاکس کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے اپنی تزویراتی پوزیشن کو مضبوط بنا رہا ہے۔
اس حکمت عملی کے تحت پاکستان نہ صرف اپنے قومی سلامتی کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے بلکہ مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو بھی مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہا ہے۔
روس اور چین پاکستان کے کردار سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں، خاص طور پر روس کی جانب سے پاکستان کو رعایتی نرخوں پر تیل کی فراہمی کی پیشکش اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے،یہ پیش رفت پاکستان کے لیے توانائی کے شعبے میں اہم سہولت فراہم کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا ہے، ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا اور اسرائیل سے متعلق کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی حمایت پر کھلے عام شکریہ ادا کیا،یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے میں پیچیدہ حالات کے باوجود پاکستان اپنی سفارتی پوزیشن کو مؤثر طریقے سے برقرار رکھے ہوئے ہے۔
پروین ساہنی سعودی عرب کی جانب سے بھی پاکستان کو مسلسل تیل کی فراہمی جاری ہے، جو کہ مؤخر ادائیگیوں کی بنیاد پر کی جا رہی ہے،اس تیل کی مالیت تقریباً ایک سو ملین ڈالر ماہانہ ہے، جو پاکستان کے لیے معاشی لحاظ سے بڑی سہولت کا باعث ہے اور ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے رہی ہے۔
مجموعی طور پر یہ تمام پیش رفت اس وسیع تر حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں جس کے تحت پاکستان مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن انداز میں برقرار رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات، خصوصاً سلامتی اور معاشی استحکام، کو ترجیح دے رہا ہے۔