جدید ریڈار ٹیکنالوجی کے آنے سے پہلے فوجیں دشمن کے طیاروں کا سراغ لگانے کے لیے ایک انتہائی انوکھی اور دلچسپ ٹیکنالوجی استعمال کرتی تھیں۔
یہ بڑے بڑے آلات دھات سے بنے ہوئے ایسے ڈھانچے ہوتے تھے جو دیکھنے میں دیو ہیکل کانوں جیسے لگتے تھے۔ ان کا کام فضا میں آنے والے طیاروں کی آواز کو سننا اور اس کی سمت کا اندازہ لگانا تھا۔
یہ ابتدائی سسٹم دراصل بڑے سائز کے ڈائریکشنل مائیکروفونز کی طرح تھے۔آپریٹر ان کے ذریعے دور سے آنے والے طیاروں کی آواز سنتے تھے اور آواز کی سمت سے اندازہ لگاتے تھے کہ طیارہ کس طرف سے آ رہا ہے۔
اگرچہ ان کی رینج محدود تھی اور یہ جدید ٹیکنالوجی جتنے درست نہیں تھے، لیکن اس دور میں فضائی دفاع کے لیے یہ ایک اہم ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔
ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی آواز پر مبنی نظام بعد میں ریڈار اور جدید نگرانی کے نظام کی ترقی کی بنیاد بنا۔آج جو جدید دفاعی ریڈار اور نگرانی کے سسٹمز استعمال ہوتے ہیں، ان کی ابتدائی سوچ اسی دور کی ان تجرباتی مشینوں سے ہی شروع ہوئی تھی۔
یہ تاریخ کا وہ دور تھا جب’دیکھنے‘ کے بجائے ’سننے‘ سے دشمن کے طیاروں کا سراغ لگایا جاتا تھا، اور یہی تجربات آج کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی بنیاد بنے۔