انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی نے گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کے قتل میں ملوث ملزم سعد عباسی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے جدید تفتیشی طریقوں اور فوری کارروائی کے ذریعے ملزم کو محض 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئےآئی جی اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ ایئرفورس کیپٹن کو فائرنگ کرکے شہید کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایئرفورس کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم کو شہید کرنے کا واقعہ صبح 11 بج کر 21 منٹ پر پیش آیا، یہ واقعہ ہمارے لیے ایک چیلنج تھا جس کی فوری تفتیش شروع کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ملزم محمد سعد عباسی اور نمرہ نامی خاتون میلوڈی میں کیش اینڈ کیری اسٹور پر کام کرتے تھے، پہلے بھی دو مرتبہ یہ اکٹھے آئے۔ آج ملزم خاتون کو پارک یا کسی اور جگہ لے جانا چاہتا تھا، خاتون نے انکار کیا تو لڑکے نے زبردستی شروع کردی۔
آئی جی نے کہا کہ گروپ کیپٹن نے دیکھا اور واپس مڑ کر گاڑی کھڑی کرکے اسے روکا، لڑکی دوبارہ مڑی اور کار کی طرف آئی، ملزم سعد عباسی بھی موٹر سائیکل لے کر مڑا، موٹر سائیکل سوار سعد عباسی نے پستول سے گروپ کیپٹن پر فائر کردیا۔
انہوں نے کہا کہ خاتون کو اسٹور پر آئے دس دن نہیں ہوئے تھے، ملزم میں صرف شیطانیت تھی اور وہ زبردستی خاتون کو ساتھ لے جانا چاہتا تھا، اس کیس میں ملزم کی گرفتاری کے لیے 11 پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئیں، 275 سیف سٹی کیمرے دیکھے گئے، اے آئی کیمروں کے ذریعے تمام ریکارڈ حاصل کیا گیا۔
آئی جی نے بتایا کہ سفاک قاتل کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے، اسلام آباد سے گرفتاری کے وقت اس نے اسکائی ویز کا ٹکٹ لیا ہوا تھا، ملزم نے موبائل ڈیٹا بھی بند کیا ہوا تھا، تمام گیارہ ٹیمیں آپس میں رابطے میں تھیں، واقعہ کے نو گھنٹوں میں ملزم سعد عباسی کو گرفتار کرلیا گیا،ایک کیمرے کی ویڈیو اینالائز کرنے میں تین گھنٹے لگتے ہیں، جدید اے آئی اور دیگر ٹولز استعمال کرکے تفتیش کو تیز کیا گیا۔قانون کے تمام تقاضے پورے ہونگے، قاتل کو سزا ہوگی۔