خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی خالی نشست (جو مراد سعید کی رکنیت ختم ہونے سے خالی ہوئی) پر پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی مشاورتی عمل کے دوران غیر معمولی اور حیران کن فیصلے سامنے آئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پارٹی ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ڈرائیور، غلام بادشاہ کو اس نشست کے لیے بطور کورنگ امیدوار نامزد کر دیا گیا ہے، جس پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور پارلیمانی بورڈ کے درمیان اختلافات کی خلیج واضح ہو گئی ہے۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی نے عرفان سلیم کو اس نشست کے لیے باضابطہ امیدوار نامزد کر کے ٹکٹ جاری کیا ہے، تاہم کورنگ امیدواروں کی فہرست میں غلام بادشاہ اور سجاد مہمند کے نام شامل کیے گئے ہیں۔
بادشاہ خان کا نام ٹکٹ کی فائنل لسٹ میں دیکھا جا سکتا ہے !
رپورٹ کے مطابق اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس نے اخوانزادہ حسین یوسفزئی کا نام تجویز کیا تھا اور پارٹی کے مرکزی رہنماؤں بیرسٹر گوہر علی خان اور سلمان اکرم راجہ نے انہیں کم از کم کورنگ امیدوار رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔
تاہم، آخری لمحات میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے فہرست میں بڑی تبدیلی کی گئی اور اخوانزادہ حسین یوسفزئی کا نام نکال کر بشریٰ بی بی کے ڈرائیور غلام بادشاہ کا نام شامل کروا دیا گیا۔
اس فیصلے پر پارٹی کے اندر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، خاص طور پر شاہد خٹک جیسے رہنماؤں نے مخصوص ناموں کی شمولیت پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
پارٹی کے بعض حلقوں نے عرفان سلیم کے خلاف 9 مئی کے مقدمات کی بنیاد پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ ایک ڈرائیور کو سینیٹ جیسے اعلیٰ ایوان کے لیے امیدوار بنانے پر کئی سینیئر رہنما حیرت زدہ ہیں۔ اپریل 2026 کے ان حالات میں یہ داخلی اختلافات پی ٹی آئی کے پارلیمانی اتحاد کے لیے نیا چیلنج بن سکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی نشستیں ہمیشہ سے پی ٹی آئی کے لیے اسٹرٹیجک اہمیت کی حامل رہی ہیں۔ مراد سعید کی نشست پر امیدوار کا انتخاب اس لیے بھی حساس تھا کیونکہ وہ پارٹی کے ایک کلیدی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔
ماضی میں بھی پی ٹی آئی پر ’پیرا شوٹ انٹریز‘ یا قریبی ملازمین کو نوازنے کے الزامات لگتے رہے ہیں، لیکن بشریٰ بی بی کے عملے کے رکن کی نامزدگی نے اس بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پارٹی معاملات پر بڑھتی ہوئی گرفت اور مرکز کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔