نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ابراہیمی معاہدے سے متعلق گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان فلسطین کے معاملے پر اپنے اصولی مؤقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گا اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے تک ابراہیمی معاہدے پر کسی قسم کی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔
واشنگٹن میں پاکستانی اور بین الاقوامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت تسلیم کیے بغیر پاکستان اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے یا ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننے پر غور نہیں کر سکتا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کا موقف دہائیوں سے مستقل اور اصولی رہا ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسی کوئی تبدیلی متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی حصہ ہے۔
اسحاق ڈار نے خطے کی موجودہ صورتحال اور ایران امریکا مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو تقریباً 47 برس بعد مذاکرات کی میز پر لانے اور ابتدائی سفارتی رابطوں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عالمی ساکھ مزید مستحکم ہوئی ہے اور بھارت کی پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
وزیر خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اپنی ملاقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول میں مختلف علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال زیر بحث آئی۔
کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کا مطالبہ کرتا رہے گا۔