امریکی عدالت کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑا حکم،فیصلے پر ٹرمپ برہم، سخت ردعمل آگیا

امریکی عدالت کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑا حکم،فیصلے پر ٹرمپ برہم، سخت ردعمل آگیا

امریکی وفاقی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں کینیڈی سینٹر سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ہٹانے کا حکم دے دیا جس کے بعد امریکا میں سیاسی اور قانونی بحث نے نئی شدت اختیار کر لی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کے وفاقی جج کرسٹوفر کوپر نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کینیڈی سینٹر کا نام امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے نام سے منسوب ہے اور اسے کسی دوسرے نام سے منسوب کرنے کا اختیار صرف امریکی کانگریس کے پاس ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ عمارت، سرکاری دستاویزات اور آن لائن مواد سے ٹرمپ کے نام سے متعلق تمام حوالہ جات 14 روز کے اندر ہٹائے جائیں۔

عدالت نے کینیڈی سینٹر کو دو سال کے لیے بند کر کے بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کے منصوبے پر بھی روک لگا دی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سینٹر کی انتظامیہ نے قانونی تقاضوں اور ممکنہ اثرات کا مکمل جائزہ لیے بغیر یہ اقدام کیا۔

یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاوس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صحت سے متعلق رپورٹ جاری کر دی،اہم انکشافات

فیصلے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے جج کرسٹوفر کوپر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور فیصلے کو سیاسی بنیادوں پر دیا گیا قرار دیا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ کینیڈی سینٹر کی بحالی اور تزئین کے لیے بڑے منصوبے تیار کیے گئے تھے لیکن عدالت نے ان کوششوں کو روک دیا۔

امریکی صدر نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ کینیڈی سینٹر کے مستقبل سے متعلق اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کر سکتے ہیں جبکہ ان کے حامیوں نے فیصلے کو عدالتی مداخلت قرار دیا۔ دوسری جانب کینیڈی خاندان کے بعض افراد اور ڈیموکریٹ رہنماؤں نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے تاریخی ورثے اور قانونی اصولوں کی فتح قرار دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس کینیڈی سینٹر کے بورڈ کی جانب سے ادارے کے نام میں ٹرمپ کا نام شامل کیے جانے کے فیصلے پر شدید تنازع کھڑا ہوگیا تھا، جس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔ تازہ فیصلے کے بعد ایک بار پھر امریکا میں سیاسی اختیارات، عدالتی حدود اور قومی ثقافتی اداروں کے کردار پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

editor

Related Articles