اسلام آباد کی راول جھیل میں طویل عرصے بعد فلیمنگو پرندوں کی واپسی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم اس خوش آئند پیش رفت کے ساتھ ایک تشویشناک معاملہ بھی سامنے آیا ہے جس پر متعلقہ حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق راول جھیل کے علاقے میں موجود فلیمنگو پرندوں کے ایک غول کا شکار کیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ 12 سے 13 فلیمنگو ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ اس واقعے میں مقامی افراد کے ملوث ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
واقعے کے بعد اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
وائلڈ لائف حکام کا کہنا ہے کہ فلیمنگو جیسے نایاب مہاجر پرندوں کا شکار ماحولیاتی نظام کے لیے تشویش کا باعث ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب راول جھیل میں ان پرندوں کی آمد خود ایک غیر معمولی اور کم دیکھے جانے والا واقعہ سمجھی جا رہی ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اگر شکار اور وائلڈ لائف قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق مہاجر پرندے قدرتی ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔واضح رہے کہ یہ معلومات ابتدائی رپورٹس پر مبنی ہیں اور واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔