بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی چار پہاڑیوں میں سے ایک پر واقع ہزارہ برادری کی بستی ماری آباد رات کے وقت ایک ایسے منظر میں بدل جاتی ہے جو دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے۔
یہ علاقہ فوٹوگرافر زہرا اصغری کے لیے صرف ایک لوکیشن نہیں بلکہ ان کا اپنا گھر ہے۔ وہ یہاں پلی بڑھیں اور اس بستی کے ہر راستے، ہر سیڑھی اور ہر گھر کی کہانی کو بخوبی جانتی ہیں۔
ماری آباد کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک عام بستی نہیں بلکہ پہاڑ کے سینے پر بسایا گیا ایک مکمل شہر ہے، جہاں سینکڑوں پتھروں سے بنے گھر ایک دوسرے کے اوپر تہہ در تہہ بنے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے کوئی اوپر کی طرف بڑھتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے زمین ختم ہو رہی ہو اور زندگی پہاڑ کی دیواروں سے چمٹتی جا رہی ہو۔
رات کے وقت یہ منظر مزید دلکش ہو جاتا ہے۔ گھروں کی کھڑکیوں سے نکلتی پیلی اور سفید روشنیاں پورے پہاڑ کو ایسے روشن کر دیتی ہیں جیسے ستارے زمین پر اتر آئے ہوں۔ نیچے سے دیکھنے والوں کو یہ پورا پہاڑ ایک چمکتے ہوئے جال کی طرح نظر آتا ہے۔
مقامی ہزارہ کمیونٹی نے اس بستی کو نسل در نسل محنت سے آباد کیا ہے۔ وقت کے ساتھ یہاں آبادی میں اضافہ ہوتا گیا اور اندازوں کے مطابق اب یہاں لاکھوں لوگ ایک ہی پہاڑ پر زندگی گزار رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں سڑکیں بھی عام سڑکیں نہیں رہیں بلکہ کہیں کہیں سیڑھیوں کا روپ دھار چکی ہیں۔ اوپر کے گھروں کی چھتیں نیچے والے گھروں کے لیے راستوں کا کام دیتی ہیں، جس سے یہ علاقہ ایک منفرد شہری ڈھانچے کی مثال بن گیا ہے۔
رات کے اندھیرے میں جب کوئٹہ شہر خاموش ہو جاتا ہے، ماری آباد کی روشنیوں سے جگمگاتا یہ پہاڑ ایک ایسا منظر پیش کرتا ہے جو نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ انسانی محنت، بقا اور کمیونٹی کی کہانی بھی سناتا ہے۔