معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ چند روز میں مذاکرات کا ایک اور دور شروع ہونے کا امکان ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے، بلکہ پسِ پردہ رابطے جاری ہیں اور سفارتکاری کے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔ علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مختلف ممالک اس عمل کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے کے کئی اہم ممالک اس وقت نہ صرف مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں بلکہ ممکنہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے بھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت کو ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں جانب سے بیانات میں سختی دیکھی جا رہی تھی۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر امن اور استحکام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے، اور کسی بھی مثبت سفارتی پیش رفت کو نہایت اہمیت دی جا رہی ہے۔