عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے اپنی تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ملک کی مجموعی معاشی سمت کو مستحکم قرار دیتے ہوئے اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی بی منفی پر برقرار رکھی گئی ہے جبکہ معاشی منظرنامہ کو مستحکم قرار دیا گیا ہے۔
فچ کے مطابق پاکستان نے حالیہ عرصے میں مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر انداز میں برقرار رکھا ہے اور مجموعی معاشی کارکردگی بھی تسلی بخش رہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی مالیاتی ادارے کے پروگرام نے پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا، جس کے باعث مالی استحکام میں بہتری آئی توقع ظاہر کی گئی ہے کہ ادارے کے بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی قسط موصول ہو سکتی ہے، جو معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ہوگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے باوجود ملک کے زرمبادلہ ذخائر مستحکم رہنے کی امید ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث توانائی کے شعبے میں خطرات بدستور موجود ہیں، جو معیشت پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
مہنگائی کے حوالے سے فچ نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ مالی سال میں شرح بڑھ کر تقریباً سات اعشاریہ نو فیصد تک پہنچ سکتی ہےدوسری جانب شرح سود میں کمی کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے، جس سے سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ متوقع ہے، مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو آئندہ مالی سال میں تقریباً تین اعشاریہ ایک فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ بڑھ کر بارہ اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ جاری کھاتوں کا خسارہ کم ہو کر ایک اعشاریہ ایک فیصد رہنے کی توقع ہے،اگر یہی رجحان برقرار رہا تو پاکستان کی معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن رہ سکتی ہے، تاہم بیرونی عوامل پر کڑی نظر رکھنا ناگزیر ہوگا۔