امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات کرنسی مارکیٹ پر بھی دکھائی دینے لگے ہیں، جہاں پاکستانی سرمایہ کاروں میں ایرانی ریال کی خریداری کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ایکسچینج مارکیٹ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں ایرانی ریال کی قیمت میں نمایاں اتار چڑھاؤ سامنے آیا ہے۔ جنگی صورتحال سے قبل جہاں ایک کروڑ ایرانی ریال تقریباً 2,500 پاکستانی روپے میں دستیاب تھے، وہی اب بڑھ کر تقریباً 10,000 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ایرانی ریال کی تاریخی گراوٹ، ڈالر کے مقابلے میں 15 لاکھ تک پہنچ گیا
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق کچھ سرمایہ کار اس امید پر ایرانی ریال خرید رہے ہیں کہ مستقبل میں اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے یا پابندیوں میں نرمی ہوتی ہے تو اس کرنسی کی قدر میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ محض قیاس آرائیوں پر مبنی سرمایہ کاری خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ کرنسی مارکیٹ انتہائی غیر مستحکم ہوتی ہے اور کسی بھی وقت صورتحال بدل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں بعض برآمد کنندگان ایران سے ادائیگیاں ایرانی ریال میں وصول کر رہے ہیں جبکہ درآمد کنندگان بھی تجارتی لین دین کے لیے ریال خریدنے پر مجبور ہیں۔مالی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی کرنسی میں سرمایہ کاری سے پہلے مکمل معلومات اور رسک کا اندازہ انتہائی ضروری ہے، ورنہ نقصان کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

