لبنان اور اسرائیل کے درمیان برسوں بعد براہِ راست مذاکرات کا اہم دور آج واشنگٹن میں منعقد ہو رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو خود ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ اسرائیلی سفیر یچیئل لیٹر اور لبنانی سفیر ندا حمادہ کے درمیان یہ ملاقات آج رات 8:30 بجے (امریکی وقت) اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں ہوگی، جس کا بنیادی مقصد سرحدوں پر طویل مدتی سیکیورٹی اور جنگ بندی کو یقینی بنانا ہے۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب لبنان پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 2,000 سے زیادہ افراد شہید اور 6,500 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنی ’ ریڈ لائن‘ واضح کر چکا ہے۔ انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ملک سے تمام جوہری مواد ہٹائے اور آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی جہازوں کے لیے فوری طور پر کھول دے۔
جے ڈی وینس نے ایران پر ’اقتصادی دہشتگردی‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کو خطرے میں ڈالنا بند نہ کیا تو صدر ٹرمپ کے احکامات کے مطابق ایرانی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر محدود کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ پاک، امریکا، ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے، جس کے بعد واشنگٹن اب ایران پر اضافی معاشی دباؤ ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ آج ہونے والے لبنان اسرائیل مذاکرات کو اس پورے خطے کے امن کے لیے کلیدی قرار دیا جا رہا ہے۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان 1993 کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ اتنے اعلیٰ سطح پر براہِ راست مذاکرات ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ لبنان کی ریاست سے نہیں بلکہ حزب اللہ سے برسرِ پیکار ہے، جبکہ لبنان اپنی خودمختاری کی بحالی کا خواہاں ہے۔
دوسری طرف، امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز پر سخت بیانیے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی توانائی کی 20 فیصد ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ ایران کی جانب سے سیز فائر کی شرائط کے طور پر آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے وعدے کے باوجود، کشیدگی برقرار ہے جس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔