آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی ناکہ، توانائی کے عالمی بحران نے دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا، 11 ممالک کا بڑا مطالبہ سامنے آگیا

آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکی ناکہ، توانائی کے عالمی بحران نے دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا، 11 ممالک کا بڑا مطالبہ سامنے آگیا

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے عالمی معیشت پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کے پیشِ نظر برطانیہ، جاپان اور آسٹریلیا سمیت 11 ممالک نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متاثرہ ریاستوں کے لیے ’منظم ہنگامی امداد‘ فراہم کریں۔

برطانیہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں مسلسل خلل عالمی توانائی کی سلامتی اور مالیاتی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

جنگی صورتحال کے باعث ایران نے آبنائے ہرمز کو غیر ملکی جہازوں کے لیے بند کر دیا ہے، جس کے جواب میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے اہم سفارشات وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش

امریکی فوج نے پیر سے اب تک ایران سے منسلک 8 آئل ٹینکرز کو روک لیا ہے، جن میں چینی ملکیت کا ٹینکر ’رِچ اسٹاری‘ بھی شامل ہے۔ اس کشیدگی کے جواب میں ایرانی فوجی حکام نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی ناکہ بندی ختم نہ ہوئی تو وہ بحیرہ احمر کی تجارت بھی معطل کر دیں گے۔

ان تمام تر سختیوں کے باوجود، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر معمولی پرامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ ’ختم ہونے کے قریب‘ ہے اور آنے والے 2 دن ’حیرت انگیز‘ ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی عارضی جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ ایک مستقل حل پہنچ میں ہے۔

دوسری جانب پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے اعتراف کیا ہے کہ فریقین کے درمیان بداعتمادی کی خلیج اب بھی بہت وسیع ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی خام تیل کی ترسیل کے لیے ’شہ رگ‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی بندش کا مطلب ہے کہ ایشیا اور یورپ کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل اور مہنگے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔

آئی ایم ایف سے ہنگامی امداد کا مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس تنازع کے معاشی بوجھ سے سہمے ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ’حیرت انگیز دو دن‘  کا تذکرہ ان کی مخصوص سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، جہاں وہ انتہائی فوجی دباؤ کے بعد ایک ’بڑا سودا‘کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *