الجزائر میں ایک عجیب و غریب واقعہ سامنے آیا ہے جہاں تین افراد نے غیر قانونی طور پر اسپین داخل ہونے کے لیے بھیڑوں کا روپ دھار لیامگر ان کی چالاکی زیادہ دیر نہ چل سکی۔پولیس کے مطابق ملزمان ایک مویشیوں سے بھرے ٹرک میں چھپ کر سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے خود کو بھیڑ جیسا دکھانے کے لیے روئی کی تہیں لپیٹی ہوئی تھی جبکہ چہروں پر رنگ کیا ہوا تھا اور جانوروں جیسے لباس زیب تن کئےہوئے تھے تاکہ اصلی بھیڑوں میں گھل مل جائیں۔تاہم معمول کی چیکنگ کے دوران اہلکاروں کو کچھ بھیڑوں کی حرکات مشکوک لگیں۔ کیونکہ وہ دو ٹانگوں پر چل رہی تھیں اور انسانی انداز اپنائے ہوئے تھیں۔ شک گہرا ہوا تو ٹرک روک کر تلاشی لی گئی جس کے نتیجے میں تینوں افراد پکڑے گئے۔
گرفتار افراد کے خلاف غیر قانونی امیگریشن سمیت دیگر الزامات کے تحت کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ الجزائر سے اسپین تک غیر قانونی ہجرت کے واقعات عام ہیں، لیکن بھیڑ کا بھیس بدل کر سرحد پار کرنے کی یہ کوشش اپنی نوعیت کی نہایت انوکھی اور حیران کن مثال ہے
یوں یورپ کا خواب لے کر نکلنے والے یہ ’خاص قسم کی بھیڑیں‘ سرحد تو پار نہ کر سکیں، مگر سیدھا حوالات پہنچ گئیں۔ آخرکار پولیس نے بھی مان لیا کہ بھیڑوں کے ریوڑ میں انسان گھس تو سکتے ہیں مگر دو ٹانگیں اور زیادہ عقل ہمیشہ پکڑی ہی جاتی ہے۔