بجلی کی لوڈشیڈنگ کا بڑے بحران کا خدشہ، پاور ڈویژن کا ہنگامی خط منظرعام پرآگیا

بجلی کی لوڈشیڈنگ کا بڑے بحران کا خدشہ، پاور ڈویژن کا ہنگامی خط منظرعام پرآگیا

بڑھتی ہوئی گرمی اور بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافے کے باعث پاور ڈویژن نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہنگامی بنیادوں پر ایل این جی کے 4 کارگوز فراہم کرنے کی درخواست کر دی ہے۔

میڈیا رپورٹ  کے مطابق پاور ڈویژن کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کے لیے ایل این جی کی فراہمی ناگزیر ہو چکی ہے۔

خط کے متن کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن سے کہا گیا ہے کہ قطر کے ساتھ موجود طویل المدتی معاہدوں کے تحت فوری طور پر 4 ایل این جی کارگوز کا انتظام کیا جائے تاکہ بجلی کی پیداوار میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:نیپرا نے بغیر منظوری اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب پر بجلی تقسیم کار کمپنیز سے وضاحت طلب کر لی

پاور ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایل این جی کی بروقت فراہمی ممکن نہ ہوئی تو ملک کو شدید لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مزید برآں، متبادل کے طور پر ڈیزل کے استعمال سے بجلی کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کا براہ راست بوجھ صارفین پر پڑے گا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال میں توانائی کے شعبے کو مستحکم رکھنے کے لیے بروقت فیصلے ناگزیر ہیں، بصورت دیگر نہ صرف بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ صنعتی اور گھریلو صارفین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ملک میں بڑھتی ہوئی گرمی اور توانائی کے دباؤ کے پیش نظر پاور ڈویژن نے پیٹرولیم ڈویژن کو ایک اہم خط ارسال کیا ہے جس میں فوری طور پر ایل این جی کے 4 کارگوز کا بندوبست کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس خط میں واضح کیا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث بجلی کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس نے موجودہ پیداواری صلاحیت اور ایندھن کی دستیابی پر دباؤ ڈال دیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ملک کے متعدد گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس اس وقت ایندھن کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں اور اگر فوری طور پر ایل این جی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو بجلی کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔

پاور ڈویژن نے تجویز دی ہے کہ قطر کے ساتھ موجود طویل المدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی کارگوز حاصل کیے جائیں تاکہ ہنگامی بنیادوں پر صورتحال کو سنبھالا جا سکے۔

مزید پڑھیں:بجلی کے دو میٹر لگانے پر پابندی؟ پاور ڈویژن کا اہم بیان سامنے آگیا

میڈیا رپورٹ کے مطابق خط میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر ایل این جی دستیاب نہ ہوئی تو حکومت کو ڈیزل سے چلنے والے پاور پلانٹس کا سہارا لینا پڑے گا، جو نہ صرف مہنگا ایندھن ہے بلکہ اس سے بجلی کی فی یونٹ لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے، جبکہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

پاکستان میں توانائی کا شعبہ گزشتہ کئی برسوں سے ایندھن کی درآمدات، مالی مشکلات اور طلب و رسد کے عدم توازن جیسے مسائل کا شکار رہا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں بجلی کی طلب عموماً 25000 سے 30000 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ دستیاب پیداوار اکثر اس سے کم رہتی ہے۔

 ایل این جی کو نسبتاً سستا اور مؤثر ایندھن سمجھا جاتا ہے، جس کے ذریعے گیس پاور پلانٹس کو چلایا جاتا ہے، مگر عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کے مسائل کے باعث اس کی دستیابی ایک چیلنج بنی رہتی ہے۔

گزشتہ سالوں میں بھی ایل این جی کی کمی کے باعث ملک کو مہنگے متبادل ایندھن جیسے فرنس آئل اور ڈیزل پر انحصار کرنا پڑا، جس سے بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوا اور گردشی قرضے میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *