پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مردان میں منعقدہ جلسے کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں نے اگرچہ ماحول کو گرمایا، تاہم صوبائی حکومت کی طرف سے سرکاری گاڑیوں کا جلسہ کے لیے بے دریغ استعمال کیا گیا۔سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کے باوجود پی ٹی آئی کا فلاپ شو ہوگیا،کرسیاں خالی،عوام نے مسترد کردیا۔
جلسہ شروع ہونے سے پہلے ہی صورتحال مختلف رخ اختیار کر گئی عوام کی عدم دلچسپی نظر آئی جبکہ مشتعل پی ٹی آئی کارکن پولیس کیساتھ گتھم گتھا ہوگئے جبکہ پولیس اہلکاروں سے بد تمیزی بھی کی ،متعدد کارکن جلسہ گاہ سے مایوس ہو کر واپس جاتے دکھائی د ئیے۔
تفصیلات کے مطابق جلسے کے لیے کیے گئے انتظامات اور شہر بھر میں لگائی گئی پابندیوں کے باعث شہریوں اور کارکنوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اہم سڑکوں کی بندش، داخلی راستوں پر رکاوٹوں اور خاردار تاروں کی تنصیب نے نہ صرف آمد و رفت متاثر کی بلکہ روزمرہ زندگی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔
جلسہ گاہ کے اطراف مقامی تاجروں کو بھی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس پر شہری حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، بعض کارکنوں نے طویل انتظار اور انتظامی مشکلات کے باعث جلسہ شروع ہونے سے پہلے ہی واپسی اختیار کر لی۔
پی ٹی آئی کی قیادت کی لوگ انتہائی مایوس ہوچکے ہیں کیونکہ صوبے میں موجود تحریک انصاف کی نام نہاد قیادت کو عوامی مسائل کی کوئی فکر نہیں وہ صرف اپنے بانی کے لیے اڈیالہ کے چکر لگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
لوگ جلسوں اور بے مقصد باتوں سے تنگ آچکے ہیں عوام کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کوجلسوں کے بجائے عوام کے مسائل پرتوجہ دینی چاہیے سالوں سے پی ٹی آئی اس صوبے میں حکومت کر رہی ہے لیکن صوبے کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے ۔
لوگوں کا کہنا تھا کہ مسائل نے زندگی اجیرن بنادی ہے سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم کو جلسوں کی فکر پڑی ہے جبکہ ہمارے گھر میں دو وقت کی روٹی بھی نہیں ہوتی ۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انتظامی صورتحال اور سخت بندشوں کے باعث جلسہ گاہ تک پہنچنا عام شہریوں کے لیے بھی مشکل بنا رہا، جس کی وجہ سےلوگ پی ٹی آئی سے سخت نالاں نظر آئے۔
واضح رہے کہ مردان میں منعقد ہونے والا یہ جلسہ شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہوچکا ہے جبکہ ابتدائی مراحل میں ہی کارکنوں کی مایوسی نے اس پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔