نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں صرف چند نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے، جبکہ پاکستان اس تنازعے کے حل کے لیے شروع سے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں مباحثے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے پہلے دن سے ایران اور امریکا کے درمیان تنازعے کو حل کرنے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 47 سال کے بعد ایران اور امریکا کے مذاکرات کی ثالثی پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے تنازعے کی وجہ سے خطے کی معیشت اور تجارت متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بدقسمتی سے 2 ارب آبادی پر مشتمل اس خطے کا مجموعی جی ڈی پی صرف 4 ٹریلین ڈالر ہے، جبکہ خطے کے ممالک کے درمیان تجارت کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں۔
نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان تجارت اور روابط بڑھانے کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں ٹرانس شپمنٹ کے لیے ایک آئیڈیل ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں سیزفائر کے بعد آبنائے ہرمز کا تجارتی جہازوں کے لیے کھلنا انتہائی خوش آئند ہے۔ اسحاق ڈار نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا اور ایران مذاکرات میں صرف چند نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے، اور امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات جلد منطقی انجام تک پہنچیں گے۔