دنیا میں جرمن شیفرڈ کتوں کی دو ایسےواقعات سامنے آئے ہیں جو اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ نرمی اور محبت بعض اوقات طاقت سے بھی بڑی ثابت ہوتی ہے۔
پہلے واقعہ میں ایک کتے ’بارنابی‘ سے منسوب کی جاتی ہےجو سوشل میڈیا اور مختلف رپورٹس میں وائرل رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بارنابی کو’’ کے نائن‘‘ اکیڈمی میں اس لیے ناکام قرار دیا گیا کیونکہ وہ جارحانہ رویہ اختیار کرنے یا کاٹنے سے انکار کرتا تھا۔ وہ سخت تربیت کے بجائے لوگوں سے پیار سے پیش آتا، دم ہلاتا اور ہاتھ چاٹ لیتا تھا۔
میڈیا زرائع کے مطابق بعد میں اسے سرچ اینڈ ریسکیو کے کام میں لگا دیا گیاجہاں ایک اہم موقع پر اس نے جنگل میں گم ہونے والی 3 سالہ بچی کو ڈھونڈنے میں مدد کی۔ سرچ آپریشن میں بارنابی خوفزدہ بچی کے پاس خاموشی سے بیٹھ گیا اور اسے پیار سے تسلی دیتا رہا، یہاں تک کہ ریسکیو ٹیم پہنچ گئی۔ یہ واقعہ لوگوں کے لیے ایک جذباتی مثال بن گیا کہ نرمی بھی ایک بڑی طاقت ہو سکتی ہے۔
دوسری طرف ایک اور واقعہ ’گیول‘ نامی جرمن شیفرڈ کا ہے جو آسٹریلیا کی ریاست کوئنزلینڈ سے تعلق رکھتا ہے۔ گیول کو پولیس ڈاگ اسکواڈ سے اس لیے ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ بھی بہت زیادہ دوستانہ اور نرم مزاج تھا اور سخت پولیس ڈیوٹی کے لیے مطلوبہ جارحیت نہیں دکھا سکا۔
لیکن اسے ضائع نہیں کیا گیا بلکہ اسے کوئنزلینڈ کے گورنر نے گورنمنٹ ہاؤس میں اپنا رسمی اور اعزازی کتا بنا لیا۔ وہاں وہ مہمانوں کا استقبال کرتا ہے اور اپنی خوش اخلاقی سے سب کا دل جیت لیتا ہے۔
یہ دونوں واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ہر خوبی ہر کام کے لیے ضروری نہیں ہوتی، اور بعض اوقات نرمی ہی اصل پہچان اور سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔